بجٹ 2026 کی آمد اور ٹیکس کا حساب مرکزی بجٹ 2026 پیش ہونے میں اب چند دن باقی ہیں۔ ہر سال بجٹ کے دوران ہر گھر میں بس ایک ہی موضوع زیرِ بحث آ جاتا ہے— “بجٹ”۔ ٹی وی چینلوں سے لے کر دفتر کی کینٹین تک ہر کوئی یہی اندازے لگاتا نظر آتا ہے کہ اس بار کیا سستا ہوگا اور کیا مہنگا؟ مگر اکثر بجٹ کی بھاری بھرکم اصطلاحات ہمیں الجھا دیتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ انکم ٹیکس کی سلیب تلاش کرتے ہیں، جبکہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ “بالواسطہ ٹیکس” کی صورت میں ہماری باورچی خانے کی اشیاء اور موبائل بل تک پہنچتا ہے۔ اگر آپ بھی بجٹ 2026 کی باریکیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ٹیکس کے اس دوہرے کھیل کو جاننا ضروری ہے۔
ڈائریکٹ ٹیکس
سادہ لفظوں میں، براہِ راست ٹیکس (ڈائریکٹ ٹیکس) وہ رقم ہے جو آپ اپنی محنت کی کمائی میں سے سیدھے حکومت کو ادا کرتے ہیں۔ اس کا بوجھ آپ کسی اور پر منتقل نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کی آمدنی زیادہ ہے تو ٹیکس بھی زیادہ ہوگا۔ اس میں سب سے اہم انکم ٹیکس ہے جو تنخواہ یا کرایہ سے حاصل ہونے والی آمدنی پر لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ شیئر بازار یا جائیداد سے منافع کماتے ہیں تو حکومت آپ سے کیپیٹل گین ٹیکس وصول کرتی ہے۔ بڑی کمپنیوں کے منافع پر کارپوریٹ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ بھارت میں ان تمام ٹیکسوں کی نگرانی سی بی ڈی ٹی (CBDT) کرتا ہے۔ بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکس میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا سیدھا اثر آپ کی ٹیک ہوم سیلری اور بچت پر پڑتا ہے۔
انڈائریکٹ ٹیکس
بالواسطہ ٹیکس (انڈائریکٹ ٹیکس) نہایت خاموشی سے کام کرتا ہے۔ یہ آپ کی آمدنی پر نہیں بلکہ آپ کے خرچ پر لگتا ہے۔ آج کے دور میں اس کی سب سے بڑی مثال جی ایس ٹی ہے۔ چاہے آپ بسکٹ خریدیں یا نیا موبائل فون، آپ انجانے میں حکومت کو ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
اس میں امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں ہوتا؛ صابن کی ایک ٹکیا پر جتنا ٹیکس ایک کروڑ پتی دیتا ہے، اتنا ہی ایک مزدور بھی۔ جی ایس ٹی کے علاوہ بیرونِ ملک سے آنے والی اشیاء پر لگنے والی کسٹم ڈیوٹی اور پیٹرول، تمباکو جیسی چیزوں پر عائد سیس بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ حکومت کی آمدنی میں انڈائریکٹ ٹیکس کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔
بجٹ میں تبدیلی کا آپ کی زندگی پر اثر
جب وزیرِ خزانہ بجٹ پیش کرتی ہیں تو انڈائریکٹ ٹیکس میں معمولی سی تبدیلی بھی مہنگائی بڑھا سکتی ہے یا راحت دے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر حکومت موبائل کے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی کم کر دے تو فوراً اس امید کو تقویت ملتی ہے کہ اسمارٹ فون سستے ہوں گے۔دوسری جانب اگر سگریٹ یا سافٹ ڈرنکس پر سیس بڑھا دیا جائے تو ان کی قیمتیں فوراً بڑھ جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈائریکٹ ٹیکس میں اضافہ غریب طبقے کو زیادہ متاثر کرتا ہے کیونکہ ان کی محدود آمدنی کا بڑا حصہ انہی ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
بجٹ 2026 سے کیا ہیں امیدیں؟
آنے والے بجٹ 2026 میں سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ حکومت مڈل کلاس کو ڈائریکٹ ٹیکس میں کتنی راحت دیتی ہے اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ کیا ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح کم ہوگی؟ یا لگژری اشیاء پر ٹیکس مزید بڑھے گا؟ یہ بجٹ ہی طے کرے گا کہ آنے والے سال میں آپ کے گھر کا بجٹ بگڑے گا یا سنبھلے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…