قومی

Budget 2026-27: بجٹ میں ’فوری راحت‘ کے بجائے ’طویل مدتی وژن‘ پر زور، کریسل انٹیلی جنس کی رپورٹ میں دعویٰ

نئی دہلی: مرکزی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے ’فوری یا وقتی راحت‘ کے بجائے ’طویل مدتی سوچ‘ کو ترجیح دی ہے۔ اس مقصد کے تحت سرمایہ جاتی اخراجات (کیپیکس) میں اضافہ کیا گیا ہے اور اخراجات کے ڈھانچے میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ پیر کے روز جاری کریسل انٹیلی جنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب بجٹ کا رجحان طویل مدتی منصوبہ بندی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں اصلاحات، کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) اور ہمہ گیر و شمولیتی ترقی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

کووڈ کے بعد حکمت عملی میں تبدیلی

رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ کووڈ-19 وبا کے فوراً بعد حکومت کی توجہ انفراسٹرکچر پر اخراجات بڑھانے اور وبا کے باعث معیشت و عوامی فلاح پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے پر مرکوز تھی۔ تاہم جیسے جیسے معیشت مضبوط اور مستحکم ہوتی گئی، ترقی کے لیے براہ راست اور قلیل مدتی امداد کی ضرورت کم ہوتی چلی گئی، جس کے نتیجے میں بجٹ کا فوکس طویل مدتی ترقی کی جانب منتقل ہو گیا۔

مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر پر خصوصی توجہ

رپورٹ کے مطابق حکومت نے مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے، تاکہ ترقی کے آئندہ مرحلے کے لیے مضبوط بنیاد تیار کی جا سکے۔ ساتھ ہی مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Consolidation) کی سمت میں پیش رفت اور درمیانی مدت کے قرض اہداف کی جانب بڑھنے سے حکومت کو قلیل مدتی سوچ سے نکل کر دور رس منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملا ہے۔

جی ڈی پی گروتھ اور کھپت میں بہتری

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں بھارت کی حقیقی جی ڈی پی نمو 7.4 فیصد رہنے کی امید ہے، جو گزشتہ سال کے 6.5 فیصد کے مقابلے زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ کھپت کو سہارا دینے والی پالیسیاں اور ٹیکس میں راحت ہیں، جن سے عوامی خرچ میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مرکزی فلاحی اسکیمیں جاری رکھی گئی ہیں، لیکن سبسڈی میں کچھ کمی کے باوجود روزگار اور اثاثہ سازی پر مبنی منصوبوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔

اخراجات کے معیار میں بہتری

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخراجات کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مرکز کا سرمایہ جاتی خرچ جی ڈی پی کا 3.1 فیصد ہے، جبکہ ریاستوں کو دی جانے والی امداد شامل کرنے پر کل مؤثر سرمایہ جاتی اخراجات جی ڈی پی کے تقریباً 4.4 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ریونیو اخراجات کو کیپیکس کی طرف منتقل کیا گیا ہے، تاہم بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کے باعث مستقبل میں ریونیو اخراجات میں بڑی کٹوتی مشکل ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

6 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

7 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

7 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

8 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

8 hours ago