قومی

BRICS Summit 2026: دہلی بنا دنیا کا مرکز! وزیر اعظم مودی کی میزبانی میں برکس کا طاقتور مظاہرہ، 20 نکات میں سمجھیں پورا معاملہ

12 سے 13 ستمبر کو دہلی میں منعقد 18ویں برکس سربراہ اجلاس نے عالمی سیاست، دہشت گردی، مغربی ایشیا کا بحران، تجارتی تنازعات، ڈالر کے متبادل اور ’عالمی جنوب‘ کے کردار جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ بھارت کی صدارت میں جاری ہونے والا ’نئی دہلی اعلامیہ‘ اس سربراہ اجلاس کی سب سے اہم پیش رفت رہا۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے برکس رہنماؤں کے اعزاز میں خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا۔

وزیر اعظم مودی کی مصروف سفارت کاری

سربراہ اجلاس سے پہلے اور اس کے بعد تین دن کے دوران وزیر اعظم مودی نے مجموعی طور پر 15 دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ اس دوران برکس کے پلیٹ فارم پر ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ایک دوسرے کے سخت مخالف ممالک بھی ایک ساتھ بیٹھے۔ روس۔یوکرین تنازع پر امن کی پہل کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حمایت دی۔ وہیں چین نے بھارت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اب مل کر کام کرنے کا وقت ہے۔

ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ایک ساتھ

بھارت نے چوتھی مرتبہ برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کی۔ اس بار چیلنج اس لیے بھی زیادہ مشکل تھا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے خلاف جوابی کارروائی کی تھی۔ بھارت نے ان تینوں ممالک کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کر اپنی سفارتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

اعلامیے پر اتفاق

رکن ممالک نے بین الاقوامی تنازعات، تجارت اور عالمی حکمرانی سے متعلق معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔

مغربی ایشیا کے بحران پر تشویش

برکس رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی تشدد کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ تمام ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

ایران بحران کا چیلنج

ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں کی موجودگی نے تنظیم کے لیے مشترکہ موقف اختیار کرنا مشکل بنا دیا۔ بھارت نے دونوں ممالک کے سربراہان سے ملاقات کر کے امن کی اپیل کی۔

یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت

اعلامیے میں امریکہ کی جانب سے عائد محصولات اور یک طرفہ اقتصادی دباؤ کی مخالفت کی گئی۔ رکن ممالک نے ایسے اقدامات کو عالمی ترقی اور انسانی حقوق کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

دہشت گردی کے خلاف سخت موقف

برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دہشت گردی کی مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور دہشت گردی کو پناہ دینے والے ممالک کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر اتفاق ہوا۔

پہلگام حملے کا ذکر

بھارت نے جموں و کشمیر کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا معاملہ نمایاں طور پر اٹھایا۔ اعلامیے میں اس حملے کی سخت مذمت کی گئی۔

وزیر اعظم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات

وزیر اعظم مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے سرحد پر امن، تجارت اور باہمی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

بھارت۔چین تعلقات میں بہتری

2020 کے سرحدی تنازع کے بعد یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور پوتن کی ملاقات

وزیر اعظم مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین تنازع، تزویراتی تعاون اور تجارت سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔

گاڑی میں سفارت کاری

مودی اور پوتن کا ایک ساتھ گاڑی میں سفر سیاسی اور علامتی طور پر اہم پیغام دینے والا قرار دیا گیا۔

عالمی جنوب پر زور

بھارت نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی زیادہ نمائندگی کے مطالبے کو ترجیح دی۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات اور بھارت کی دعویداری

بھارت نے سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا اپنا مطالبہ دہرایا اور عالمی اداروں میں بہتر نمائندگی پر زور دیا۔

مقامی کرنسیوں میں ادائیگی

برکس ممالک نے سرحد پار لین دین میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش

متبادل ادائیگی نظام اور مالی تعاون کو مضبوط بنانے کی سمت میں اقدامات آگے بڑھائے گئے، تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی پر توجہ

برکس کے ایجنڈے میں مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو اہمیت دی گئی۔

توانائی اور موسمیاتی تعاون

توانائی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے معاملات کو اقتصادی ایجنڈے میں نمایاں مقام دیا گیا۔

ڈیجیٹل زراعت اور نوجوانوں پر توجہ

چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، ڈیجیٹل زراعت، صحت، بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کی ہنرمندی کے فروغ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔

چین میں اگلا برکس سربراہ اجلاس

2027 میں چین برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ بھارت کی صدارت ختم ہونے کے بعد تنظیم کی اگلی صدارت چین کے پاس ہوگی۔

بھارت کے لیے اہمیت

2026 کا برکس سربراہ اجلاس بھارت کے لیے اقتصادی تعاون سے آگے بڑھ کر دہشت گردی، مغربی ایشیا کے بحران، عالمی اداروں میں اصلاحات اور ’عالمی جنوب‘ کے کردار کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا ایک بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

وزیر اعظم مودی کا پیغام

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ برکس صرف ممالک کا نہیں بلکہ حل کا گروپ ہے۔ یہ دنیا کے لیے امید اور حل کا ایک ایسا نظام ہے جو مسائل کے حل کی راہ ہموار کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India Switzerland Talks: وزیراعظم مودی اور سوئس صدر گائے پارمیلن کی وفد کی سطح پر ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…

48 minutes ago

Entertainment News: گزشتہ ایک دہائی میں فن کی جگہ آہستہ آہستہ تفریح لے رہی ہے: ربی شیرگل

ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…

2 hours ago