ممبئی: برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے میئر کے انتخاب کو لے کر جاری سسپنس اب تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں کے لیے حتمی انتخاب 28 جنوری 2026 کو منعقد ہونے کا امکان ہے۔ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ممبئی کی سیاست میں گہما گہمی تیز ہو گئی ہے۔ اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، لیکن سیاسی جوڑ توڑ اور ممکنہ دلبدلی کے خدشات کے باعث صورتحال ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔
بی ایم سی کے حالیہ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ 227 رکنی ایوان میں میئر منتخب کرنے کے لیے 114 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بی جے پی نے 89 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے، جبکہ شیوسینا کے ایکناتھ شندے گروپ کو 29 نشستیں ملی ہیں۔ دوسری جانب ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) نے 65 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے باقی نشستیں جیتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مہایوتی اتحاد یعنی بی جے پی اور شندے گروپ، کے پاس مجموعی طور پر 118 نشستیں ہیں، جو سادہ اکثریت سے کچھ زیادہ ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ قیاس لگایا جا رہا ہے کہ اگلا میئر یا تو بی جے پی سے ہوگا یا شندے گروپ سے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ میئر کا انتخاب ہمیشہ محض نمبروں کا کھیل نہیں ہوتا، بلکہ بند کمروں میں ہونے والی بات چیت اور سیاسی حکمت عملی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات کے پیش نظر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے تمام منتخب کارپوریٹروں کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرا دیا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ دلبدلی کو روکا جا سکے۔ شندے گروپ کا کہنا ہے کہ ان کے تمام کارپوریٹر متحد ہیں اور مہایوتی اتحاد کے فیصلے کے مطابق ہی ووٹنگ کریں گے۔
دوسری جانب شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتخابی نتائج کے بعد اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ ایک بار وفاداری بدل چکے ہیں، وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ شندے گروپ کے کئی کارپوریٹر دراصل پہلے اصل شیوسینا کا حصہ تھے اور مناسب موقع ملنے پر وہ واپس آ سکتے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے واضح کیا کہ بی ایم سی میئر کا عہدہ ان کی پارٹی کے لیے نہ صرف سیاسی وقار بلکہ نظریاتی لڑائی کی علامت بھی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا ادھو ٹھاکرے کی سینا کوئی بڑا سیاسی ”کھیلا“ کرے گی یا نہیں۔ اگر شندے گروپ کے چند کارپوریٹر یو بی ٹی میں شامل ہو جاتے ہیں تو میئر کے انتخاب کے تمام حساب کتاب بدل سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں بی جے پی کو نئے اتحادیوں کی تلاش یا اضافی سیاسی حکمت عملی اپنانا پڑ سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں 28 جنوری پر ٹکی ہیں، جب ممبئی کو نیا میئر ملنے جا رہا ہے اور شہر کی سیاست کی نئی سمت طے ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…