انتخابی مہم کے دوران ممبئی بی جے پی کے جنرل سیکریٹری آچاریہ پون ترپاٹھی ایک بڑے نیوز ادارے کے دفتر پہنچے۔ وہاں منعقدہ مکالماتی پروگرام کے دوران انہوں نے بی ایم سی الیکشن کی حکمتِ عملی، امیدواروں کے انتخاب اور مختلف مسائل پر پارٹی کا مؤقف کھل کر رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے ٹھاکرے برادران پر بھی سخت حملہ کیا۔ پون ترپاٹھی نے سوال اٹھایا کہ داؤد بھی مراٹھی ہے، تو کیا اسے بھی میئر بنایا جا سکتا ہے؟ آئیے پڑھتے ہیں اس خصوصی گفتگو میں پوچھے گئے سوالات اور پون ترپاٹھی کے جوابات۔
ممبئی میں بی جے پی کا ماحول کیسا دکھائی دے رہا ہے؟
اس بار ممبئی کا الیکشن عام ممبئی کر اور عوام لڑ رہے ہیں۔ ممبئی کی عوام سلامتی اور ترقی کے لیے بی جے پی یوتی کے حق میں ووٹ دینے جا رہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہم زمینی سطح پر دیکھ رہے ہیں کہ نہ کہیں ذات کی بات ہو رہی ہے، نہ صوبے کی اور نہ ہی زبان کی۔ سب لوگ ممبئی کو محفوظ اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے ممبئی میں ٹرپل انجن کی حکومت بننے جا رہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ داؤد ابراہیم بھی مراٹھی ہے، تو کیا ٹھاکرے برادران اسے بھی میئر بنانے کی بات کریں گے؟ صاف ہے کہ ممبئی کا میئر ہندو بھی ہوگا اور مراٹھی بھی۔ ایک سوال کے جواب میں پون ترپاٹھی نے کہا کہ ممبئی بی ایم سی کا الیکشن عام کارکنوں کا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ کارکن ہی الیکشن لڑے۔ اسی لیے پُرامن طریقے سے سیٹوں کی تقسیم میں تھوڑی دیر ضرور ہوئی، لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔ اب دونوں پارٹیوں کے سینئر رہنما بھی تال میل کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
20 سال بعد ٹھاکرے برادران ایک ساتھ آئے ہیں، کیا یہ بی جے پی کے لیے بڑا چیلنج ہے؟
ہمارے وزیر اعلیٰ فڈنویس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹھاکرے برادران کا اتحاد کنفیوژن اور کرپشن کا اتحاد ہے۔ ممبئی میں مراٹھی اور غیر مراٹھی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ممبئی کی عوام اس سے بے نیاز ہے۔ عوام جانتی ہے کہ ممبئی کی ترقی اور سلامتی کون یقینی بنا سکتا ہے۔ کون کس کے ساتھ آ رہا ہے یا جا رہا ہے، اس کا کوئی مطلب نہیں۔ عوام ترقی اور سلامتی کے نام پر ووٹ دے گی۔
کانگریس نے ونچت کے ساتھ اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
کسے کس کے ساتھ جانا ہے، یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ کانگریس کے پاس 227 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے لیے امیدوار نہیں ہیں، نہ ہی یو بی ٹی اور دیگر جماعتوں کے پاس۔ صرف بی جے پی کے پاس ہی 227 سیٹوں کے لیے امیدوار ہیں۔ اس لیے انہیں کسی نہ کسی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کانگریس اور ونچت کے اتحاد سے بی جے پی یوتی کو کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا۔
ممبئی بی ایم سی انتخابات میں کتنے اتر بھارتیوں کو ٹکٹ دیا گیا ہے؟
بی جے پی ہی وہ پارٹی ہے جو ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا پریاس‘‘ پر یقین رکھتی ہے۔ اس بار بغیر کسی امتیاز کے صاف شبیہ اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے کارکنوں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ 14 اتر بھارتیوں اور ہندی بولنے والوں سمیت کُل 21 افراد کو ٹکٹ دیے گئے ہیں۔ ممبئی کی اصل ثقافت کے مطابق بی جے پی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آرہی ہیں۔…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم…
سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…
انڈیگو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف)…
بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم سمادھان ابھیان…
2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…