قومی

BJP washing machine is back: ’’بی جے پی کی واشنگ مشین واپس آگئی‘‘ عام آدمی پارٹی کے ممبران کے بی جے پی میں شامل ہونے پر جے رام رمیش کا طنز

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے عام آدمی پارٹی (AAP) کے راجیہ سبھا ارکان کے بی جے پی میں شامل ہونے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’بی جے پی کی واشنگ مشین دوبارہ چل پڑی ہے، ساتھ ہی مودی واشنگ پاؤڈر بھی آگیا ہے۔ جو لوگ خود کو ایمانداری، نظریہ اور اصولوں کا علمبردار بتاتے تھے، وہ اب پوری طرح بے نقاب ہو گئے ہیں۔‘‘ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب راگھو چڈھا سمیت سات راجیہ سبھا ارکان نے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کا دامن تھام لیا۔

’سیاسی شکار‘ کی سیاست کا الزام

سابق کانگریس رہنما ادھیر رنجن چودھری نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی پر ’’سیاسی شکار‘‘ (Political Hunting) کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو مخالف جماعتوں کے لیڈروں کو اپنی طرف کھینچنے کی مہارت حاصل ہے اور یہی طرز سیاست مغربی بنگال میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ چودھری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دیگر جماعتیں، بشمول ترنمول کانگریس، بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپناتی ہیں، جہاں جیتنے والے امیدواروں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ آج کی سیاست کا ’’نیا معمول‘‘ بن چکا ہے۔

سات ارکان کی بی جے پی میں شمولیت

سیاسی بحران اس وقت گہرا ہو گیا جب راگھوچڈھا، سندیپ پاٹھک، اشوک متل، ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم جیت سنگھ ساہنی اور سواتی مالیوال نے AAP چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ راگھو چڈھا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے قواعد کے مطابق راجیہ سبھا چیئرمین کو پارٹی چھوڑنے کی اطلاع دے دی ہے اور ایوانِ بالا میں پارٹی کے دو تہائی ارکان اب بی جے پی میں ضم ہو جائیں گے۔ اس پیش رفت کے بعد اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی میں ہلچل مچ گئی ہے اور نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

پارٹی کی نئی حکمت عملی اور قانونی کارروائی کی تیاری

ذرائع کے مطابق سینئر لیڈر منیش سسودیا نے گجرات کے دورے سے واپسی کے بعد فوراً اروند کیجریوال سے ملاقات کی، جس میں پارٹی کی موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا میں چیف وہپ این ڈی گپتا ان ارکان کے خلاف چیئرمین کو خط لکھیں گے اور اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ شکایت خاص طور پر ان تین ارکان راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل کے خلاف درج کی جائے گی، جو عوامی طور پر بی جے پی میں شامل ہوتے نظر آئے۔ یہ پورا معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاست میں پارٹی بدلنے کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

9 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

9 hours ago