کرناٹک قانون سازکونسل (ایم ایل سی) الیکشن 2026 میں ہوئی زبردست کراس ووٹنگ سے متعلق بی جے پی ہائی کمان نے سخت رویہ اپنایا ہے۔ پارٹی کے قومی صدر نتن نبین نے اس موضوع کو بے حد سنجیدگی سے لیا ہے۔ کرناٹک کے بی جے پی صدر بی وائی وجیندرسمیت کئی دیگرسینئر لیڈران کودہلی طلب کیا ہے۔ نیوزایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، نتن نبین نے کراس ووٹنگ پرسخت اعتراض کرتے ہوئے ریاستی قیادت میں ریاستی صدر بی وائی وجیندر، اپوزیشن لیڈرآراشوک اور ریاستی انچارج رادھا موہن داس کو23 جون کو دہلی آکروضاحت دینے اوراس معاملے پرمیٹنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔
بی جے پی- جے ڈی ایس کولگا بڑا جھٹکا
کرناٹک میں وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں نئی حکومت کے کام کاج سنبھالنے کے بعد یہ پہلا انتخابی مقابلہ تھا۔ جمعرات کو قانون سازکونسل کی 7 سیٹوں کے لئے ہوئے الیکشن میں برسراقتدارکانگریس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ سیٹوں پرقبضہ کرلیا جبکہ اپوزیشن پارٹی بی جے پی کو صرف دو سیٹوں سے ہی اکتفا کرنا پڑا۔ وہیں، بی جے پی کی اتحادی جے ڈی ایس کا کھاتہ تک نہیں کھل سکا۔
کراس ووٹنگ سے کھل گئی پول
اس الیکشن کے نتائج نے بی جے پی اور جے ڈی ایس اراکین اسمبلی کے ذریعہ کراس ووٹنگ کوپوری طرح سے اجاگرکردیا۔ کانگریس امیدوارکے حق میں این ڈی اے کے اراکین اسمبلی نے جم کرووٹ ڈالے۔ ذرائع کے مطابق، برسراقتدارکانگریس پارٹی کوکل 151 ووٹ ملے، جوان کے متوقع 140 ووٹوں سے 11 ووٹ زیادہ ہے۔
حالیہ ایم ایل سی کی 7 سیٹوں کے لئے 8 امیدوارمیدان میں تھے، جن کے لئے اراکین اسمبلی نے جمعرات (18 جون) کوووٹنگ کی اوراسی شام ووٹوں کی گنتی ہوئی اورنتیجے سامنے آئے۔ ابتدائی جانکاری کے مطابق، ایسا مانا جا رہا ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی کے تین اور جے ڈی ایس کے 8 اراکین اسمبلی نے کراس ووٹنگ کی ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کا ووٹ غیرقانونی (اِن ویلیڈ) قراردیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-