نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ان کی اہلیہ ڈمپل یادو او دھرمیندر یادوسمیت کئی لیڈران نے پارلیمنٹ کی جامع مسجد کے امام اور رام پور کے رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے میٹنگ کی تھی۔ اس کی تصویرسامنے آنے کے بعد بی جے پی اقلیتی مورچہ نے اس پراعتراض کیا۔ وہیں سوشل میڈیا پربھی اس پرخوب بحث ہوئی۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدرجمال صدیقی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اوردہلی وقف بورڈ کوخط لکھ کرمولانا محب اللہ ندوی کوامامت کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دراصل، ایک پارٹی کے لیڈران کا مسجد میں جمع ہونے سے عوام میں غلط پیغام گیا۔ حالانکہ مسجد میں غیرمسلم بھائیوں کے داخلے پر کوئی ممانعت نہیں ہے، لیکن اس معاملے پرخوب سیاست ہوئی اوربی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدرجمال صدیقی کا کہنا ہے کہ یا تومسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی عوام سے معافی مانگیں اوراپنی غلطی کا اعتراف کریں، ورنہ جمعہ کے روز25 جولائی کوبعد نمازجمعہ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے لیڈران کی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ کا آغاز وندے ماترم سے ہوگا اورمیٹنگ کا اختتام راشٹر گیان سے ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یوانو بینک کے زوال کو لے کر اب پینا…
محمد شامی کو طویل عرصے سے ٹیم انڈیا میں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا…
محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر کو دہلی-این سی آر…
ہائی کورٹ نے این ڈی ایم سی سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کرتے…
سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی…
امت شاہ نے ہریانہ کے کرنال میں بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا…