قومی

BJP reach out to Muslim community: تین طلاق، سی اے اے کی طرح مسلمانوں کو وقف قانون کے فوائد سمجھانے کیلئے بیداری مہم چلائے گی بی جے پی

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وقف قانون کے خلاف مسلم کمیونٹی کے احتجاج کے دوران ان تک پہنچنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ پارٹی 20 اپریل سے اتر پردیش میں 15 دنوں کا ایک بیداری مہم شروع کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد اس قانون کے فوائد سے متعلق آگاہی پھیلانا ہے۔ یہ مہم خاص طور پر مسلم مذہبی رہنماؤں، علماء، اور ہر اسمبلی حلقے میں مدرسہ کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے ذریعے کی جائے گی۔

واضح رہے کہ وقف قانون (ترمیمی بل) 2025 کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت کئی مسلم تنظیمیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے خلاف سرگرم ہو چکی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے حقوق اور وقف املاک کی خودمختاری کو متاثر کرے گا۔ حالانکہ بی جے پی اسے ایک مثبت تبدیلی کے طور پر پیش کر رہی ہے، جو شفافیت اور انتظامی بہتری لے کر آئے گی۔بی جے پی کے اس اقدام کا مقصد مسلم کمیونٹی، خاص طور پر پسماندہ طبقات، خواتین، بیواؤں، اور بچوں کو اس قانون سے ہونے والے ممکنہ فوائد سے آگاہ کرنا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون وقف کے مقدس جذبات کا احترام کرتے ہوئے کمیونٹی کے غریب طبقات کے لیے مواقع فراہم کرے گا۔ تاہم، اس مہم کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کمیونٹی اسے کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اس دوران، مسلم تنظیموں نے اس بل کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے شروع کر رکھے ہیں، جس میں کہا جا رہا ہے کہ یہ قانون ان کی دینی اور معاشی خودمختاری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بی جے پی کے اس بیداری مہم سے تناؤ کم ہو سکتا ہے یا اور بڑھا سکتا ہے،یہ آئندہ دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ہر حلقے میں کم از کم ایک اجلاس منعقد کریں گے تاکہ براہ راست رابطہ قائم کیا جا سکے۔اس مہم کو آگے بڑھانے کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔کمیٹی میں تیامبک ترپاٹھی،باسط علی،شیوبھوشن سنگھ اور اکھلیش اوستھی شامل ہیں۔

مسلمانوں کے احتجاج ومظاہرے کے بیچ بی جے پی کا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی مہم کے ذریعے اعتماد بحال کرے گی اور کمیونٹی کے خدشات  کودور کرے گی۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون شفافیت اور بہتری لے کر آئے گا، لیکن مسلم کمیونٹی کی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔اس لئے بی جے پی اب تین طلاق، سی اے اے کی طرح وقف قانون کو بھی سمجھانے کی مہم شروع کرنے جارہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

7 minutes ago

PM Modi Mann Ki Baat: آملے نے بدلی قسمت! ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا، پرتاپ گڑھ ’وکل فار لوکل‘ کی مثال

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…

34 minutes ago

Bihar News: سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچے پپو یادو، انتظامیہ پر برہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیا سخت بیان

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…

42 minutes ago