نئی دہلی : ملک میں عوامی امتحانات کو شفاف بنانے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں عوامی امتحانات (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 کو لے کر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر دنیش شرما نے اس قانون کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اپوزیشن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ صرف بیانات دینے یا تشویش ظاہر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مؤثر اور سخت فیصلے لینے پڑتے ہیں۔دنیش شرما نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے تعلیمی نظام سے نقل اور پیپر لیک جیسے سنگین مسائل کے خاتمے کے لیے مضبوط انتظامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق برسوں سے امتحانی نظام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف اب ایسا سخت قانونی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے جس سے بدعنوان افراد کے حوصلے ہمیشہ کے لیے پست ہو جائیں گے۔انہوں نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف سیاسی بیان بازی سے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ ایسے قوانین نافذ کرنا ضروری ہیں جو جرم کرنے والوں کے لیے عبرت کا باعث بنیں۔ دنیش شرما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ نئے قانون کے تحت پیپر لیک یا نقل کرانے والوں کے لیے اتنی سخت سزا رکھی گئی ہے کہ “ان کی آنے والی تین نسلیں بھی اسے یاد رکھیں گی۔”
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ملک کے نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان باشعور، باصلاحیت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نسل ڈیجیٹل انڈیا، میک اِن انڈیا، اسٹارٹ اپ اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے جدید تصورات کو سمجھتی ہے اور اپنی محنت کے بل پر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے باصلاحیت نوجوان اپوزیشن کے بہکاوے میں آسانی سے آنے والے نہیں ہیں۔واضح رہے کہ حکومت نے امتحانات میں ہونے والی دھاندلی، نقل اور پیپر لیک جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے اینٹی پیپر لیک قانون نافذ کیا ہے۔ اس قانون کے دائرے میں یو پی ایس سی، ایس ایس سی، بینکنگ، ریلوے اور مختلف ریاستی سطح کے بھرتی امتحانات شامل ہیں، تاکہ امیدواروں کو شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام فراہم کیا جا سکے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پیپر لیک، نقل کرانے یا امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے تین سے دس سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس قانون کی منظوری کے وقت اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض دفعات ضرورت سے زیادہ سخت ہیں اور ان سے طلبہ یا نچلے درجے کے ملازمین پر غیر ضروری دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایسے سخت قوانین وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
بھار ت ایکسپریس اردو
فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ’بسم اللہ‘ لکھے پوسٹروں نے سیاسی اور سوشل…
بھارت 26 اور 27 اکتوبر کو 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی کرے گا۔ نئی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 62 سال کے ہو گئے۔ آر ایس ایس کے رضاکار…
دہلی میں ریحان واڈرا کی نمائش ’نو آئیڈیا از فائنل‘ کی 70 سے زائد تصاویر…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے جمعرات کو نئی دہلی کے دوارکا میں…
کانگریس کا ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام، 13,150 ووٹروں…