بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈراور بی جے پی اقلیتی مورچہ کے سابق نائب صدر عرفان احمد نے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایم سی ڈی ضمنی انتخابات کے اس بڑے معرکے میں چاندنی محل وارڈ میں بی جے پی کے مسلم بھائی بہنوں کی مہم ایسی دکھائی دے رہی ہے جیسے ہوا میں ایک نئی تحریک کا پیغام بکھر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف انتخاب نہیں بلکہ ایک خواب کا سفر ہے—ترقی کا، اتحاد کا اور خوشحالی کا۔ عرفان احمد نے کہا کہ ’’سوچئے، چاندنی محل کی تنگ گلیوں سے لے کر پرانی دہلی کے تاریخی بازاروں تک بی جے پی کے مسلم کارکن دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ صبح مسجدوں کے باہر، شام چائے کی دکانوں پر اور رات گھر گھر جا کر وہ مضبوط پکڑ بنا رہے ہیں۔ ان کے چہروں کی مسکراہٹ کہتی ہے: ’ہم ہیں تو بی جے پی ہے، اور بی جے پی ہے تو ترقی ہے۔‘ یہ وہی کارکن ہیں جو برسوں سے پارٹی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ چاہے رمضان ہو یا عید، چاہے ہولی ہو یا دیوالی—کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی نے ہمیشہ سب کا ساتھ نبھایا ہے۔ آج یہی مسلم کارکنان میدان میں اتر چکے ہیں تاکہ چاندنی محل کو نئی بلندیوں تک لے جائیں۔‘‘
’فری فری‘ کا نعرہ دے کر صرف وعدے کیے
عرفان احمد جو کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے ممبربھی رہ چکے ہیں ، نے کہا کہ’’ یاد کیجئے جب ایم سی ڈی میں بی جے پی کی حکومت بنی تو کیا تبدیلیاں آئیں؟ گندگی سے پاک سڑکیں، ٹوٹے نالوں کی مرمت اور ہر گلی کوچے میں روشنیاں—لیکن عام آدمی پارٹی کی بدعنوان سیاست نے سب کو دھوکہ دیا۔ ’فری فری‘ کا نعرہ دے کر صرف وعدے کیے، مگر کام؟ صفر! چاندنی محل جیسے وارڈ میں جہاں تاریخ بھی ہے اور ہلچل بھی، وہاں ترقی ضروری تھی، لیکن عام آدمی پارٹی نے کیا کیا؟ صرف جھوٹے خواب بیچے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب دیکھئے بی جے پی کا جذبہ—مسلم کارکن گھر گھر جا کر بتا رہے ہیں کہ بی جے پی ہی حقیقی خدمت کی نمائندہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’مودی جی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے مسلم کمیونٹی کے لیے بہت کچھ کیا—ٹرپل طلاق کا خاتمہ، حج سبسڈی میں شفافیت، تعلیم اور صحت میں نئی اسکیمیں۔‘ دہلی میں بھی بی جے پی ایم سی ڈی کے ذریعے ہر طبقے کو جوڑ رہی ہے۔اس دوران عرفان احمد نے یہ بھی کہا کہ ’’چاندنی محل کے لیے ہماری منصوبہ بندی ہے—اسمارٹ گلیاں، بہتر ڈرینیج، اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور بازاروں کے لیے خصوصی فنڈ۔ تصور کریں کہ یہاں کی گلیاں اس قدر سنور جائیں کہ سیاح اس مقام کو مثال کے طور پر دیکھیں۔
’ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں، ہم ایک ہیں‘
عرفان احمد نے کہا کہ ’’یہ مہم صرف سیاست کی نہیں بلکہ بھائی چارے کی ہے۔ بی جے پی کے مسلم کارکن ثابت کر رہے ہیں کہ ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں، ہم ایک ہیں، ایک بھارت کے سپوت ہیں۔ عام آدمی پارٹی ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہے۔مگر بی جے پی سب کا ساتھ، سب کا وکاس۔‘‘ انہوں نے بی جے پی امیدوار کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے امیدوار سنیل کمار شرما ایک ایماندار اور محنتی لیڈر ہیں جو چاندنی محل کو نئی شناخت دیں گے۔ وہ وارڈ کی ہر مشکل اور ضرورت سے واقف ہیں۔ ان کی قیادت میں مسلم کارکنوں کے ساتھ ہم جیتیں گے۔ دیکھئے یہ مہم کتنی زبردست ہے۔یہ توانائی، یہ جنون—30 نومبر کو ووٹ کے ذریعے پھوٹ کر سامنے آئے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…