قومی

Bihar Politics: بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے سنہا پر دو ای پی آئی سی نمبر رکھنے کا الزام، تیجسوی یادو نے کہہ دی بڑی بات

پٹنہ: بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے اتوار کے روز نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا پر دو ای پی آئی سی نمبر رکھنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کا نام دو اسمبلی حلقوں، بانکی پور اور لکھی سرائے کی ووٹر لسٹ میں ہے۔

’’وجے سنہا کا دو اسمبلی حلقوں میں ایس آئی آر فارم‘‘

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ووٹر ریویژن کے کام کے لیے دو جگہوں سے فارم بھرے۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے اس کا ثبوت دکھایا اور کہا کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے دو اسمبلی حلقوں سے اپنا ایس آئی آر فارم بھرا۔ انہوں نے اپنے انتخابی حلف نامے میں بانکی پور اسمبلی کا بھی ذکر کیا۔ لیکن، چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے بانکی پور کے علاوہ لکھیسرائے سے بھی اپنا فارم بھرا۔ یہی نہیں ان کی عمر بھی دونوں فارموں میں مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے ان دونوں فارم پر خود دستخط کئے ہوں گے۔ اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو الیکشن کمیشن ایس آئی آر میں فراڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی نے فراڈ کیا ہوگا۔ الیکشن کمیشن اس کی تحقیقات کرے اور ڈپٹی سی ایم اس کا جواب دے۔

’’کب ہوگی اس فراڈ پر ایف آئی آر، کب ہوگا استعفیٰ؟‘‘

اس دوران بہار کانگریس نے بھی ڈپٹی سی ایم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑے فراڈ ڈپٹی سی ایم وجے سنہا نکلے۔ بہار کانگریس نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ X پر لکھا، ’’صاحب دو جگہوں کے ووٹر ہیں – لکھیسرائے اور بانکی پور، پٹنہ۔ انہوں نے ان دونوں جگہوں پر SIR فارم بھرا ہے۔ دونوں جگہوں پر ان کا نام ڈرافٹ میں بھی آ گیا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ کیا وہ پچھلے انتخابات میں دونوں جگہوں پر ووٹ ڈال رہے تھے؟ تو کیا الیکشن کمیشن نے انہیں دو ووٹنگ حقوق دیے ہیں؟ قواعد کے خلاف جا کر دو جگہوں سے SIR فارم کیوں بھرا؟ الیکشن کمیشن نے دو جگہوں سے ڈرافٹ میں نام کیسے ڈال دیا؟ کب ہوگی اس فراڈ پر ایف آئی آر، کب ہوگا استعفیٰ؟ کیا الیکشن کمیشن کے قوانین صرف دلتوں، پسماندہ طبقات، غریبوں، مزدوروں کے لیے ہیں، بھاجپائیوں کے لیے نہیں؟

’’الیکشن کمیشن اور بی جے پی، چور چور موسیرے بھائی‘‘

کانگریس نے مزید کہا کہ یہ فراڈ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ملک بھر میں بی جے پی والوں کو دوہری تہری شہریت دے رہے ہیں۔ کہیں ایک پتہ پر 80-80 ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو کہیں ایک شخص چار بار ووٹ دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی، چور چور موسیرے بھائی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

2 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

3 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

3 hours ago