قومی

Bihar Election 2025 : بہار کی ”خطرناک“ سیٹ، یہاں تیسری جیت ہے ٹیڑھی کھیر، کیا ٹوٹے گا 70 سال کا ریکارڈ ؟

بہار اسمبلی انتخابات کے موسم میں اس وقت بیہ پور اسمبلی سیٹ سیاسی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس سیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پچھلے ستر برسوں سے یہاں کوئی بھی پارٹی لگاتار تین بار جیت حاصل نہیں کر سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیہ پور کو ریاست کی سب سے مشکل اور غیر یقینی سیٹ مانا جاتا ہے۔

سیاسی اتار چڑھاؤ کی سرزمین
بیہ پور ضلع بھاگلپور سے تقریباً 19 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس میں نارائن پور، بیہ پور اور خریق پرکھنڈ شامل ہیں۔ زرخیز زمین، گنگا، کوسی اور بوڑھی گنڈک جیسی ندیوں سے گھرا یہ علاقہ ہر سال آنے والے سیلاب سے برباد ہوتا ہے۔ یہی سیلاب اور بے روزگاری یہاں کے ووٹروں کے بنیادی انتخابی مدعے ہیں۔ سال 1951 میں وجود میں آئی اس سیٹ پر کبھی کسی پارٹی نے اپنی جڑیں مضبوطی سے نہیں جما پائیں۔ پچھلے 17 اسمبلی انتخابات میں بیہ پور نے کئی بار سیاسی رنگ بدلا۔

تیسری جیت بنی “ٹیڑھی کھیر”
بیہ پور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں لگاتار تیسری بار کوئی پارٹی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ سنہ 1952 سے 1969 تک یہاں مسلسل اقتدار کی تبدیلی دیکھی گئی۔ کبھی کانگریس جیتی تو کبھی کمیونسٹ پارٹی یا جن سنگھ۔ سال 1969 کے بعد بھی حالات زیادہ نہیں بدلے —

کمیونسٹ پارٹی نے 1969 سے 1977 تک دو بار کامیابی حاصل کی۔
کانگریس نے 1980 اور 1985 میں دو بار اقتدار میں آئی۔
جناتا دل نے 1990 اور 1995 میں کامیابی حاصل کی۔
راشٹریہ جنتا دل نے 2000 اور 2005 میں جیت درج کی۔
مگر کوئی بھی جماعت تیسری بار مسلسل جیتنے کا ریکارڈ قائم نہیں کر سکی۔

بی جے پی بمقابلہ آر جے ڈی — نئی دہائی کی لڑائی
گزشتہ ایک دہائی میں بیہ پور میں مقابلہ صرف دو جماعتوں بی جے پی اور آر جے ڈی کے درمیان سمٹ گیا ہے۔ سال 2010 میں بی جے پی نے محض 465 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ سال2015 میں آر جے ڈی نے واپسی کرتے ہوئے 12,716 ووٹوں سے جیت درج کی۔ سال 2020 میں بی جے پی پھر 6,129 ووٹوں سے آگے رہی۔  تاہم 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جے ڈی یو کو یہاں صرف 4,855 ووٹوں کی برتری ملی، جو اشارہ کرتا ہے کہ 2025 میں این ڈی اے کے لیے راستہ آسان نہیں ہوگا۔

بیہ پور کے ووٹروں کا مزاج
الیکشن کمیشن کے مطابق بیہ پور کی کل آبادی تقریباً 4.52 لاکھ ہے، جن میں 2.68 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں — 1.41 لاکھ مرد، 1.26 لاکھ خواتین اور 22 تیسری جنس کے ووٹر۔ یہ ووٹر عام طور پر مقامی مسائل جیسے سیلاب، کھیتی باڑی اور روزگار کو مدنظر رکھ کر ووٹ کرتے ہیں۔ ہر سال آنے والا سیلاب کسانوں کی کمر توڑ دیتا ہے جبکہ نوجوان بہتر روزگار کے لیے بڑے شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔

سال 2025 — ایک اور سخت مقابلے کا سال
سیاسی ماہرین کے مطابق، سال 2025 کا اسمبلی انتخاب بیہ پور میں کانٹے دار ہونے والا ہے۔این ڈی اے اپنی پچھلی کامیابی بچانے کی کوشش میں ہے جبکہ مہاگٹھ بندھن روزگار، ترقی اور فلاحی اسکیموں کے ذریعے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیہ پور کے باشعور ووٹر ہمیشہ تبدیلی کو ترجیح دیتے آئے ہیں، اس لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اس بار 70 سال کا ریکارڈ ٹوٹتا ہے یا روایت برقرار رہتی ہے۔ ایک بات طے ہے — بیہ پور ایک بار پھر بہار کی سیاست کا سب سے خطرناک سیٹ بننے جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

36 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

2 hours ago