بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے قا نون ساز کونسل(ایم ایل سی) کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد بہار کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے ترجمان نیرج کمار نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار ریاست کی سیاست میں ایک الگ معیار رکھتے ہیں اور ان جیسا لیڈر کسی اور میں نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نتیش کمار کا سیاسی سفر عوامی خدمت اور اصولی سیاست کی مثال ہے، جس کی نظیر موجودہ سیاست میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
نیرج کمار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار نے ہمیشہ عہدوں سے زیادہ عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاستدان اپنی کرسی چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، لیکن نتیش کمار نے ماضی میں بھی ایسا کر کے مثال قائم کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نتیش کمار نے پہلے جیتن رام مانجھی کو نو ماہ کے لیے وزیر اعلیٰ بنایا تھا اور اب ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اقتدار کے بجائے اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قدم واضح کرتا ہے کہ نتیش کمار عہدے کے محتاج نہیں بلکہ عوامی حمایت ان کی اصل طاقت ہے۔
اس موقع پر نیرج کمار نے پرشانت کشور اور تیجسوی یادو کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے پرشانت کشور کو ’’بین الریاستی سیاسی مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کی سیاست میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرشانت کشور نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے ذریعے تیجسوی یادو کو بھی مشکل صورتحال میں ڈالنے کا کام کیا ہے۔ نیرج کمار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بجلی کی شرح میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں کی گئی، بلکہ صبح اور شام کے اوقات کے حساب سے الگ الگ شرحیں نافذ کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 125 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کرنے کا وعدہ برقرار ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے ترجمان نے انڈین نیشنل کانگریس اور راہل گاندھی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کانگریس وہ نہیں رہی جو جواہر لال نہرواور اندرا گاندھی کے دور میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک جا کر ملک کی پالیسیوں پر تنقید کرنا اور معاشی حالات پر سوال اٹھانا کانگریس کی عادت بن چکی ہے، جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
نیرج کمار نے ممتا بنرجی کے بیانات کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ریاست کی وزیر اعلیٰ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں تو عام شہریوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی سیاسی فائدے کے لیے مختلف مسائل کو اٹھا رہی ہیں، جبکہ عوام کو اس سے کوئی عملی فائدہ نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال میں گوشت، مچھلی اور انڈے جیسے غذائی اشیا پر پابندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور عوام بھی اس پر سوال اٹھا رہی ہے۔ نتیش کمار کے استعفیٰ کے بعد بہار کی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم آنے والے دنوں میں ریاست کی سیاسی حکمت عملی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم جنتا دل یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ نتیش کمار بدستور ریاست کی سیاست میں فعال رہیں گے اور ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…