نئی دہلی: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعہ (10 اپریل) کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف اٹھا لیا، جس کے ساتھ ہی ان کے سیاسی سفر کا ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی اعلیٰ لیڈروں نے انہیں مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنے پیغام میں نتیش کمار کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہار کو ”جنگل راج“ سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کا غیر معمولی کام انجام دیا ہے۔ ان کے مطابق نتیش کمار کی قیادت میں ریاست میں گڈ گورننس اور ترقیاتی اقدامات کو فروغ ملا، جس سے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نتیش کمار کا طویل سیاسی تجربہ، چاہے وہ مرکز میں وزیر کے طور پر ہو یا بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے، اب پارلیمنٹ میں پالیسی سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ امت شاہ نے امید ظاہر کی کہ ان کا پارلیمانی دور بھی کامیابیوں سے بھرپور ہوگا اور وہ ”وکست بھارت“ کے وژن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی نتیش کمار کو راجیہ سبھا کا رکن بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ وہ ملک کے سب سے تجربہ کار سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کے حوالے سے نتیش کمار کی وابستگی کو ہر سطح پر سراہا گیا ہے اور انہوں نے بہار کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی سے ایوان کی وقار میں اضافہ ہوگا اور ان کا تجربہ قومی سطح پر مفید ثابت ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نتیش کمار کا راجیہ سبھا میں داخلہ نہ صرف ان کے ذاتی سیاسی کیریئر کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے قومی سیاست میں بھی نئی حرکیات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ان کی موجودگی پارلیمنٹ میں قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ نتیش کمار کے دہلی جانے کے فیصلے کے بعد ریاست میں قیادت اور حکومت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ریاستی وزیر وجے چودھری نے واضح کیا ہے کہ این ڈی اے اتحاد پوری طرح مضبوط ہے اور حکومت مستحکم انداز میں کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کے تمام شراکت دار نتیش کمار کے ترقیاتی ماڈل اور گڈ گورننس کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے یکجہت ہیں۔ ان کے مطابق قیادت میں ممکنہ تبدیلی کے باوجود حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے گا اور ترقیاتی منصوبے اسی رفتار سے جاری رہیں گے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کا پارلیمنٹ میں کردار آنے والے دنوں میں نہایت اہم ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں مختلف سطحوں پر سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ان کا تجربہ اور سیاسی بصیرت نہ صرف بہار بلکہ قومی سطح پر بھی پالیسی سازی میں مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ مجموعی طور پر نتیش کمار کی راجیہ سبھا میں شمولیت کو ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ان کے سیاسی سفر کو نئی جہت ملنے کے ساتھ ساتھ قومی سیاست میں بھی ان کا کردار مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…