قومی

Bihar Caste Census Controversy: ذات پر مبنی مردم شماری کے فارم سے ’ذات‘ کا کالم غائب ہونے پر بہار میں ہلچل، آر جے ڈی-جے ڈی یو نے بی جے پی کو گھیرا

بہار کی سیاست میں ’ذات‘ کا موضوع کبھی ٹھنڈا نہیں پڑتا ہے اور اب تو معاملہ ذات پر مبنی مردم شماری تک پہنچ گیا ہے۔ ریاست میں یکم اپریل سے ذات پر مبنی مردم شماری کے نئے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن شروع ہوتے ہی ایک بڑا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ مسئلہ مردم شماری کے لیے استعمال ہونے والے فارم یا فارمیٹ سے متعلق ہے۔

اصل معاملہ کیا ہے؟

دراصل، پہلے مرحلے کے فارم میں ’ذات‘ کے لیے کوئی کالم موجود نہیں ہے اور یہی چھوٹی سی بات بہار کے سیاسی دائرے میں آگ بھڑکا گئی ہے۔ حکومتی اتحاد اور حزب اختلاف کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی کے ارادوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسے صرف سیاسی مقاصد سے جوڑا جا رہا ہے۔

بی جے پی پردے کے پیچھے کھیل رہی ہے: آر جے ڈی

آر جے ڈی نے اس معاملے کو فوری طور پر اٹھایا اور سیدھا محاذ کھول دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان شکتیی یادیو کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے کے فارم میں ’ذات‘ کا نہ ہونا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی پردے کے پیچھے کھیل رہی ہے اور اس کا مقصد غریبوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق پر قابو پانا ہے۔ آر جے ڈی کا موقف ہے کہ اگر اہم دستاویز میں ہی ذات کا ذکر نہیں ہوگا تو مردم شماری کا پورا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ شکتی یادیو نے مزید کہا کہ بی جے پی پسماندہ طبقات کے حقوق پر قابو پانے کے لیے بالواسطہ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

بغیر ’ذات‘ کے مردم شماری نامکمل

چونکہ یہ معاملہ OBC اور EBC ووٹ بینک سے جڑا ہے، اس لیے جے ڈی یو بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ جے ڈی یو کے ترجمان نِہورا یادیو نے زور دے کر کہا کہ مردم شماری کے ہر دستاویز میں ذات کا واضح ذکر ہونا چاہیے۔ جے ڈی یو کا موقف ہے کہ جب مقصد ہی ذاتوں کی تعداد جاننا ہے، تو فارم میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ اگر اس تکنیکی خامی کو دور نہیں کیا گیا، تو آنے والے دنوں میں یہ اتحاد کے اندر بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

کیا واقعی یہ ’سیاسی ڈرامہ‘ ہے؟

اس پورے تنازع کے درمیان سیاسی تجزیہ کاروں کا نقطہ نظر کچھ مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سب بیانات سیاست سے متاثر ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کوشلیندر پریادرشی کا کہنا ہے کہ عوام کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ذات پر مبنی مردم شماری کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ اس پہلے مرحلے میں زیادہ توجہ اقتصادی سروے اور SC-ST کمیونٹیز کے سروے پر دی گئی ہے۔ مردم شماری کا کام کئی مراحل میں مکمل ہونا ہے اور ہر مرحلے کا الگ فارمیٹ اور ڈیزائن طے کیا گیا ہے۔ ایسے میں پہلے مرحلے کے فارم سے متعلق اتنی ہلچل پیدا کرنا صرف خبروں میں نمایاں ہونے کا ذریعہ لگتا ہے۔فی الحال، بہار میں بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلا مرحلہ میں ذات کا کالم نہ ہونا حزب اختلاف کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، جبکہ حکومت اسے مردم شماری کے عمل کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ

کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…

4 minutes ago

Kunal Ghosh Car Attack: ’مجھے واپس لوٹنے کے لیے کہا جا رہا تھا‘، ٹی ایم سی رکن اسمبلی کونال گھوش کی گاڑی پر حملہ، ممتا بنرجی نے کی مذمت

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…

14 minutes ago

Uttar Pradesh Heavy Rain: یوپی میں 50 گھنٹے سے طوفانی بارش کا قہر، 17 افراد جاں بحق، 32 اضلاع میں سیلاب کا خطرہ

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…

43 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar EC Meeting: تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں کمشنر بھی شریک

چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…

1 hour ago

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

1 hour ago