مدھیہ پردیش میں صحت کارکنوں کی مستقلی کے معاملے پر اندور ہائی کورٹ نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے احکامات کی بار بار خلاف ورزی پر دو سینئر آئی اے ایس افسران سمیت چار افسران کو دو ماہ قیدِ سادہ کی سزا سنائی ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
مندساور ضلع کے وارڈ بوائے اور سویپر جیسے صحت کارکنوں کی مستقلی سے متعلق طویل عرصے سے تنازع جاری تھا۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے محکمہ صحت کو حکم دیا تھا کہ جن ملازمین نے دس سال کی خدمات مکمل کر لی ہیں، انہیں مستقل تنخواہ اسکیل اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس کے لیے تین ماہ کی مہلت بھی دی گئی تھی۔
حکم کی خلاف ورزی
محکمے نے 22 مرتبہ مہلت مانگنے کے باوجود عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا۔ جس کے بعد ملازمین نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پایا کہ احکامات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے۔
کس کو ملی سزا؟
عدالت نے اس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اور ریٹائرڈ آئی اے ایس محمد سلیمان، ہیلتھ کمشنر ترون راٹھی، ریجنل ڈائریکٹر ڈی کے تیواری اور مندساور کے سی ایم ایچ او گووند چوہان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دو ماہ قیدِ سادہ کی سزا سنائی۔ تاہم عدالت نے اس سزا کو تین ہفتوں کے لیے معطل بھی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر بڑے سے بڑے افسر کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ قدم ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دیوالی اور چھٹھ کے پیشِ نظر دہلی کے 6 اہم ریلوے اسٹیشنوں پر 14 نومبر…
ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟…
دہلی کی 100 سال پرانی قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پر تنازعہ…
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2023 کے درمیان بھارت…
مقامی لوگوں کو مبینہ طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ جن مکانات یا زمینوں…
مرکزی کابینہ نے اگنی ویروں کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے۔ اب 75 فیصد…