قومی

Bharat Express CMD Upendra Rai at IJF: انڈین جرنلزم فیسٹیول میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے کی بطور مہمان خصوصی شرکت، کہا-اے آئی خطرہ نہیں بلکہ بڑا موقع ہے

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اُپیندر رائے نے ریاستی پریس کلب کے زیر اہتمام مدھیہ پردیش کے اندور میں منعقدہ انڈین جرنلزم فیسٹیول کے 17ویں ایڈیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ یہ فیسٹیول 12، 13 اور 14 اپریل کو جل آڈیٹوریم، اندور میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی موجودگی اور اس کے مستقبل پر تفصیلی خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس کے استعمال سے متعلق امکانات، اس کے پالیسی مضمرات، سماجی خدشات، طرز زندگی اور روزگار پر اس کے اثرات پر تبادلۂ خیال کیا۔

مصنوعی ذہانت کوئی خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑا موقع ہے

سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے کہا ’’میں مصنوعی ذہانت کو کسی بھی طرح سے خطرے کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہوں۔ دنیا بھر سے موصولہ رپورٹس کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے 80 کروڑ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں، لیکن اس سے تقریباً 95 کروڑ نئی نوکریاں پیدا بھی ہوں گی۔ یعنی مجموعی طور پر 15 کروڑ نوکریوں کا اضافہ ہو گا۔‘‘

انسانی ذہن کا مقابلہ نہیں کر سکتی مصنوعی ذہانت

انھوں نے مزید کہا ’’مصنوعی ذہانت کبھی بھی انسانی ذہن کی برابری نہیں کر سکتی۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے عظیم ریاضی دان سری نواس رامانوجن، جو تمل ناڈو میں پیدا ہوئے تھے، ریاضی کے میدان میں منفرد ذہن کے مالک تھے۔ حالاں کہ وہ دسویں جماعت میں فیل ہو گئے تھے، لیکن انھیں ریاضی کی ایسی سمجھ تھی جو آج بھی بے مثال مانی جاتی ہے۔‘‘

ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے کہا کہ رامانوجن ایک چھوٹا سا کام کرتے تھے اور جب ان کے افسر نے ان کے ریاضی کے فارمولے دیکھے تو وہ حیران رہ گئے۔ جب آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور ریاضی دان پروفیسر ہارڈی کو رامانوجن کے فارمولے بھیجے گئے تو انھوں نے فوراً رامانوجن کو انگلینڈ بلایا۔ پرو ہارڈی نے لکھا ہے کہ ’’جب بھی رامانوجن سے کوئی سوال پوچھا جاتا تو وہ سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کا جواب دے دیتے تھے۔‘‘

یہ پورا سچ نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم کر دے گی

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے مزید کہا ’’اے آئی ایک ایسا آلہ ہے جسے آپ اور میرے جیسے انسانوں نے بنایا ہے۔ یہ صحافت کے لیے خطرہ نہیں ہے، بلکہ میں اسے ایک سہولت سمجھتا ہوں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ٹیلی پرومپٹرز کے ذریعے پڑھنے والے کچھ اینکرز کی نوکری ختم ہو جائے، لیکن وہ لوگ جو مواد کی سمجھ رکھتے ہیں، جو اصلیت اور منفرد انداز کے ساتھ لکھتے اور بولتے ہیں، ان کی نوکری نہیں جائے گی، بلکہ ایسے لوگوں کے اے آئی پروٹو ٹائپ تیار کیے جائیں گے، جو مختلف پلیٹ فارمز پر کام کریں گے۔‘‘

انسان اور مشین کی ذہانت میں بہت فرق ہے

انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’لوگ اے آئی سے ڈرتے ہیں، جیسے شطرنج کے کھلاڑی لی سڈول کو اے آئی نے 8 منٹ میں 8 مرتبہ شکست دے دی تھی۔ لیکن جب روبوٹ سے پوچھا گیا کہ اس نے ایسا کس طرح کیا، تو اس نے بتایا کہ اس نے لی سڈول کی پوری زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور ان کے فیصلہ سازی کے انداز کو سمجھ لیا ہے۔لیکن مشین سے انسانی ذہن کا مقابلہ کرنا بے وقوفی ہے، کیوں کہ مشین صرف اتنا ہی کرے گی جتنی صلاحیت اس کو فراہم کی جائے گی۔‘‘

اس دنیا میں صرف انسان ہی انسان کا متبادل ہو سکتا ہے

انھوں نے کہا کہ ’’اے آئی، سپر کمپیوٹر یا کوئی بھی ٹیکنالوجی انسانوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔ یہ انسانوں سے بہتر کام کر سکتی ہیں، لیکن ان میں انسانوں کی ’’زندگی‘‘ نہیں ہو سکتی۔ ابھی تک کوئی مشین اس قابل نہیں ہے کہ ہم جو کھاتے ہیں اسے فوری طور پر خون میں تبدیل کر سکے۔ اگر کبھی ایسا ہوا تو میں سمجھوں گا کہ خدا کی طاقت ہار گئی اور مشینیں جیت گئیں۔‘‘

امریکہ کی سائنسی سوچ، بھارت کی ’’موہ مایا‘‘

انھوں نے امریکہ کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے فلموں اور ثقافت کے ذریعے اپنی سافٹ پاور کو فروغ دیا۔ جب کہ ہندوستان میں ’’روپیہ پیسہ موہ مایا ہے‘‘ جیسے توہمات نے سائنسی فکر کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ انھوں نے کہا ’’ہمارے نوجوان بہت جلد سنیاسی بننا چاہتے ہیں اور ذمہ داریوں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں سائنس ہونے کے باوجود ہم نے توہم پرستی کی راہ اختیار کی۔ 1986 میں ہندوستان اور چین دونوں کی معیشت ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ تھی، لیکن آج چین 20 ٹریلین پر ہے اور ہندوستان صرف 4 ٹریلین پر۔‘‘

5 فیصد کا اصول: ہر کبوتر پیغام رساں نہیں ہوتا

زندگی کے ایک اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے کہا ’’فطرت میں ایک ’5 فیصد اصول‘ بھی ہے۔ مثال کے طور پر جنگ کے دوران چین نے جنوبی کوریا کے 5 فیصد فوجیوں کو الگ کر دیا کیوں کہ وہ پریشانی کا باعث بن سکتے تھے، تو 95 فیصد پرسکون ہو گئے۔ اسی طرح ہر کبوتر پیغام رساں نہیں ہوتا، صرف 5 فیصد خصوصی تربیت یافتہ کبوتر ہی پیغامات لے جاتے ہیں۔ یہی اصول آج کے معاشرے پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ یعنی صرف 5 فیصد لوگ ہی دوسروں کے لیے جیتے ہیں، باقی مشینوں کی طرح رہتے ہیں۔‘‘

مصنوعی ذہانت کے دور میں ہوگی ایک نئے انسان کی پیدائش

انھوں نے انسان کے ارتقائی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ انسانوں کا ارتقا کئی ادوار میں ہوا ہے۔ پہلا دور آگ کی ایجاد کا ہے، دوسرا دور طاقت حاصل کرنا، تیسرا دور کپڑے پہننا اور گروہ میں رہنا، پھر ریاست اور ایجادات کا دور، پھر چھوٹے آلات کا دور، پھر صنعتی انقلاب اور کمپیوٹر کا دور اور اب اے آئی اور اسٹارٹ اپس کا دور ہے۔ انھوں نے کہا ’’لہٰذا اے ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا، بلکہ میں ایک لمبی چھلانگ کی طاقت دے گا، جو ہمیں ایک نئے انسان کی پیدائش کی طرف لے جائے گی۔‘‘ اس طرح بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے اے آئی کو ایک مثبت، طاقتور اور تبدیلی کا ذریعہ قرار دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Asian Games 2026: ’فتح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے!‘ اسکواش میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر امت شاہ نے جوشنا اور ویلون کو دی مبارکباد

ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…

6 hours ago

Home Minister Amit Shah: ایشین گیمز 2026، میراتھن میں ساون برنوال نے جیتا سلور، امت شاہ نے کہا – ’کامیابی کی راہ پر اسی طرح دوڑتے رہیں‘

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…

6 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین رائفل ٹیم نے جیتا سلور، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…

6 hours ago

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

8 hours ago