کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے انتخابی مہم پیر کی شام 6 بجے اختتام پذیر ہوگئی، جس کے ساتھ ہی 48 گھنٹوں کا سائلنس پیریڈ نافذ ہوگیا ہے۔ اب 29 اپریل کو ریاست کی 142 اسمبلی نشستوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی، جس میں لاکھوں ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ انتخابی مہم کے آخری دن وزیر اعظم نریندر مودی نے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے جگت دل میں اپنی آخری ریلی سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی مغربی بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اگلے مہینے دوبارہ ریاست کا دورہ کریں گے اور بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تقریب میں شریک ہوں گے۔
اسی دن مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کولکاتا کے مضافاتی علاقے بیہالا میں ایک بڑے روڈ شو میں شرکت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد کسی بھی ممکنہ تشدد کو روکنے کے لیے مرکزی سکیورٹی فورسز کو طویل عرصے تک تعینات رکھا جائے گا تاکہ امن و امان برقرار رہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ میں نادیہ، پورب بردھمان، ہاوڑہ، ہگلی، شمالی و جنوبی 24 پرگنہ اور کولکاتا کے مختلف علاقوں کی 142 نشستیں شامل ہیں۔ ان تمام حلقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔
ان نشستوں پر کل 1,448 امیدوار میدان میں ہیں، جو مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ووٹروں کی سہولت کے لیے اس بار الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور بیلٹ پیپر پر امیدواروں کی رنگین تصاویر، نام، نمبر اور انتخابی نشان نمایاں طور پر درج کیے گئے ہیں تاکہ کسی قسم کی الجھن نہ ہو۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مرکزی فورسز کی 2,407 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ ریاستی پولیس اور کولکاتا پولیس بھی مختلف حساس مقامات پر نگرانی کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر پولنگ بوتھ پر سخت نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اس مرحلے کی انتخابی مہم خاصی متحرک اور متنازعہ رہی۔ ایک طرف بی جے پی نے حکمراں جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے بدعنوانی، خواتین کے خلاف جرائم، ریاست کی معاشی صورتحال اور صنعتوں کی زبوں حالی جیسے مسائل اٹھائے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کے تحت لاکھوں ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے اور کمیشن مبینہ طور پر بی جے پی کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔
ادھر سی پی آئی (ایم) کی قیادت والے بائیں محاذ اور آل انڈیا سیکولر فرنٹ نے بی جے پی اور ترنمول دونوں پر تنقید کی، تاہم ان کے حملوں کا زیادہ تر رخ ترنمول کانگریس کی جانب رہا۔ ان جماعتوں نے الزام لگایا کہ دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان اندرونی سمجھوتہ ہے۔ کانگریس نے اپنی مہم میں بنیادی طور پر بی جے پی کو ہدف بنایا، تاہم پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے حالیہ ریلی میں کہا تھا کہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ سیاسی مشاہدین کے مطابق اب تمام نظریں 29 اپریل کی ووٹنگ اور 4 مئی کو ہونے والی گنتی پر مرکوز ہیں، جہاں مغربی بنگال کی آئندہ سیاسی سمت کا فیصلہ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر…
ڈمپل یادو نے اپنے بیان میں کہا کہ اب دیکھنا ہے کہ اتر پردیش کے…
انکیتا بھنڈاری 19 سالہ لڑکی تھی، جو اتراکھنڈ میں رشی کیش کے قریب ایک ہوٹل…
ایشیائی کھیل 2026 کی تمغوں کی فہرست میں چین نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ چین…
اس سے قبل گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو مہاراشٹر کے پال گھر ضلع میں بھی…
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…