قومی

Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس میں پولیس کی سرگرمی سے خوف کا ماحول، عدالت سے لوگوں کو ملی بڑی راحت

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میں  پولیس کی بڑی تعداد اوربیریکڈنگ کئے جانے سے ایک طرف خوف ودہشت کا  ماحول ہے تو دوسری طرف عدالت سے لوگوں کو  بڑی راحت ملی ہے۔  ڈی ڈی اے نے جن 52 مکانات یا دوکانوں پر نوٹس لگائی تھی، اس میں اب تک  45 لوگوں کو راحت مل چکی ہے جبکہ 7لوگوں کا معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں پینڈنگ ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ ان  7 عرضی گزاروں کو بھی عدالت سے راحت مل جائے گی اور ڈی ڈی اے کی انہدامی کارروائی یا ڈیمولیشن کی کارروائی  فی الحال بٹلہ ہاؤس میں نہیں ہوگی۔ ڈی ڈی اے یعنی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی  کے ذریعہ بٹلہ ہاؤس کے مراد ی روڈ پر ڈیمولیشن سے متعلق لگائی گئی نوٹس پرمقامی لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دو درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو راحت دی ہے۔ وہیں ساکیت کورٹ نے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 17 جولائی تک اسٹے دے دیا۔ ساکیت کورٹ میں ان تمام معاملوں کی پیروی سینئر وکیل کرنل سنگھ نے کی۔ عدالت نے ان سبھی 12 معاملوں میں 17 جولائی تک لئے اسٹے آرڈرجاری کردیا ہے، جس سے لوگوں کے چہرے پر خوشی لوٹ آئی۔ ساکیت کورٹ کے اسٹے آرڈر کے بعد  اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ جانکاری دی۔ وہیں بٹلہ ہاؤس علاقے میں منگل کے روز شام کے وقت دہلی پولیس کی طرف سے بیریکیڈنگ لگانے کے بعد ہنگامہ مچ گیا۔ لوگوں کوڈی ڈی اے کے ذریعہ انہدامی کارروائی کا خدشہ ستانے لگا۔ حالانکہ آج بدھ کے روزڈیمولیشن کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی، لیکن مقامی پولیس نے مرادی روڈ پرڈی ڈی اے کی طرف سے مارکنگ کئے گئے۔ پولیس نے بلڈنگوں اورسڑک کی میپنگ بھی کی۔ اس پوری صورتحال سے پورے علاقے میں خوف کا ماحول ہے۔

 

دہلی  ہائی کورٹ نے الگ الگ عرضی گزاروں کی اپیل پرسماعت کرتے ہوئے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا۔ ساتھ ہی انہدامی کارروائی یا ڈیمولیشن پرروک بھی لگا دی تھی۔ اب 10 جولائی کو ہائی کورٹ میں سبھی عرضیوں پرایک ساتھ سنوائی ہوگی۔ اس سے پہلے تقریباً 15 عرضی گزاروں کو انہدامی کاررائی سے راحت مل چکی ہے اوراب سب ملاکر 45 عرضی گزاروں کو راحت مل چکی ہے۔ عدالت کی فوری راحت سے مقامی لوگوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ وہیں لوگ ڈی ڈی اے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف کی امید ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نوٹس کودیکھتے ہوئے کئی مکان اوردوکان خالی ہوچکے ہیں۔ تاہم وہ کہیں نہیں جائیں گے کیونکہ بہت سالوں سے وہ اسی جگہ پررہتے آئے ہیں۔ لوگوں نے اپنا سب کچھ مکان میں لگا دیا۔ جب مکان بن رہے تھے تب ڈی ڈی اے کہاں  تھا؟  زمین کہاں تک ہے، خود ڈی ڈی اے کونہیں معلوم ہے۔ عدالت پربھروسہ کرتے ہوئے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں عدالت پرپورا یقین ہے کہ وہاں سے انصاف ملے گا اور ہمارے گھربچ جائیں گے۔

کیا ہے پورا معاملہ کیا ہے؟

 ڈی ڈی اے نے گزشتہ ماہ 26 مئی کوبٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ پرخسرہ نمبر 279 اورآس پاس کے کئی مکانوں پرنوٹس چسپاں کرکے سرکاری زمین کوخالی کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس درمیان لوگ دہلی ہائی کورٹ اورساکیت کورٹ پہنچے، جہاں سے الگ الگ عرضیوں میں تقریباً 45 لوگوں کواسٹے مل چکا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے معاملے میں نوٹس جاری کرکےڈی ڈی اے سے جواب مانگا ہے۔ ہائی کورٹ میں اب اس معاملے کی  اگلی سماعت 10 جولائی کو ہوگی۔ حالانکہ اس درمیان آج صبح بٹلہ ہاؤس میں جامعہ نگرتھانے کے ایس ایچ اوپہنچے تھے اورمیپنگ کرکے حالات پرنظررکھنے کے لئے ڈرون سے نگرانی بھی کرائی گئی۔ اس سے پہلے شام کے وقت بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ پربارات گھرکے پاس دہلی پولیس نے احتیاطاً بیریکیڈس لگا دیئے تھے۔ بہرحال ابھی بٹلہ ہاؤس میں کوئی انہدامی کارروائی نہیں ہوئی ہے اورلوگوں کوراحت مل گئی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ 10 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سنوائی کے بعد کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Ganesh Idol Waste Turned Into Study Tables: مہاراشٹر میں گنیش مورتیوں کے کچرے سے بچوں کے لیے اسٹڈی ٹیبل تیار

اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…

18 minutes ago

Woman arrested in Bajhang: نیپال میں خاتون گرفتار، کتے کو پل سے ندیمیں پھینکنے کی ویڈیو وائرل

وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…

46 minutes ago

Explosion in Riyadh: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دھماکے، کئی پروازیں تاخیر کا شکار، فضائی حملے کا الرٹ

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…

2 hours ago

Iran US War: ایران نے امریکہ کے سامنے رکھیں 7 شرائط، نہ مانی تو ہوگی فیصلہ کن جنگ

رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…

2 hours ago

Uniform Civil Code: یو سی سی کے حق میں جیتن رام مانجھی، بولے- قانون کی نظر میں سب برابر ہیں

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…

3 hours ago