قومی

Bankipur By-election: بانکی پور ضمنی انتخاب کے دوران بی جے پی اور جن سوراج کارکنوں میں جھڑپ، پولیس نے بھیڑ کو کیا منتشر

پٹنہ: بہار کے پٹنہ ضلع میں بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے جاری ووٹنگ کے دوران کدوائی پوری میں واقع ایک پولنگ بوتھ کے باہر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جن سوراج پارٹی کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔ یہ جھڑپ کدوائی پوری کے پولنگ بوتھ نمبر 101، 102 اور 103 کے باہر پیش آئی۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو منتشر کیا اور صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

کیا ہے جن سوراج کا الزام؟

جن سوراج پارٹی کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے سابق امیدوار بنٹی پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں کو ڈرا دھمکا کر ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حالانکہ، بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پولیس نے حالات مزید خراب ہونے سے پہلے ہی دونوں جماعتوں کے حامیوں کو وہاں سے ہٹا دیا، جس کے بعد ووٹنگ دوبارہ معمول کے مطابق جاری رہی۔

ووٹنگ سے پہلے بھی سیاسی کشیدگی

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ووٹنگ سے ایک روز قبل ہی سیاسی ماحول کشیدہ ہو چکا تھا۔ بدھ کی رات پٹنہ پولیس اور اسپیشل ٹاسک فورس نے جن سوراج پارٹی کے تقریباً 20 لیڈران اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد پر انتخاب سے قبل بدامنی پھیلانے اور افواہیں پھیلانے کی کوشش کا شبہ تھا، لیکن ان الزامات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

پرشانت کشور کا پولیس کارروائی پر اعتراض

حراست میں لیے جانے کے بعد جن سوراج کے بانی پرشانت کشور بدھ کی رات پارٹی کارکنوں کے ساتھ جکن پور پولیس اسٹیشن پہنچے اور پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت گھبراہٹ میں فیصلے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کارکن نے جرم کیا ہے تو پولیس قانون کے مطابق مقدمہ درج کرے، لیکن کارکنوں کو ان کے اہلِ خانہ یا ساتھیوں کو اطلاع دیے بغیر حراست میں لینا قابلِ اعتراض ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے 15 سے 16 لیڈران اب بھی لاپتہ ہیں اور خبردار کیا کہ اگر پولیس ان کی حراست کی وجہ واضح نہیں کرتی تو اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

جن سوراج کے مزید الزامات

جن سوراج کے قومی ترجمان کمار سوربھ سنگھ اور پارٹی کی خواتین ونگ کی صدر پرتیبھا سنگھ نے پولیس کارروائی کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ صرف ان کی پارٹی کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پولیس اور اسپیشل ٹاسک فورس کی ٹیمیں پٹنہ کے مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مار رہی تھیں۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات جن سوراج پارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس نے ان مخصوص دعوؤں پر ابھی تک کوئی عوامی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ادھر سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ پرامن انداز میں جاری رہی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

MLC Election 2026: ایم ایل سی انتخابات، یوپی، بہار سمیت 4 ریاستوں میں ووٹنگ، 27 اکتوبر کو نتائج کا اعلان

نئی دہلی : اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک میں قانون ساز کونسل کی 28…

6 minutes ago

Jio IPO Last Day: جیو آئی پی او میں سرمایہ کاری کا آج آخری دن، لسٹنگ پر کتنے منافع کی امید؟

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے آئی پی او میں بولی لگانے کی آخری تاریخ 23…

1 hour ago

Wings Over Ganga Air Show: کاشی کے آسمان پر رافیل اور سخوئی کی گھن گرج، ونگز اوور گنگا‘ ایئر شو میں فضائیہ کے کرتب نے کیا مسحور

فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست…

2 hours ago

Role Models: چین میں مشہور شخصیات کے بجائے سائنس دانوں کے پوسٹر، تاکہ بچے انہیں اپنا رول ماڈل بنا سکیں

ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی…

3 hours ago