بابری مسجد آج ہی کے دن یعنی 6 دسمبر 1992 کو شہید کی گئی تھی۔
Babri Masjid Demolition Anniversary Today: آج 6 دسمبر کے دن ہی 1992 میں بابری مسجد شہید کردی گئی تھی۔ مسجد انہدام برسی کے پیش نظرپورے اترپردیش میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ افسران نے ریاست کے دوسب سے حساس علاقوں ایودھیا اورمتھرا کوہائی الرٹ پررکھا ہے۔ پولیس کومحتاط رہنے کے احکامات دیئے گئے ہیں اورکسی بھی ناگہانی حادثہ کوروکنے کے لئے کئی سطح پرسیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کی گئی تھی، اس لئے مختلف شہروں میں ہائی الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔
متھرا میں بھی سیکورٹی میں اضافہ
متھرا میں شاہی عید گاہ کے چاروں طرف بیریکیڈ لگائے گئے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کوتعینات کیا گیا ہے۔ آپ کوبتا دیں کہ یہاں شاہی عید گاہ-شری کرشن جنم بھومی تنازعہ کی وجہ سے معاملوں کافی وقت سے سرخیوں میں ہے۔ سسٹمیٹک سرویلانس کے لئے پورے دلاقے کودوزون، چارسپرزون اور8 سیکٹرمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ افسران سی سی ٹی وی نیٹ ورک اورڈرون کیمروں دونوں کا استعمال کرکے علاقے پر نظر رکھ رہے ہیں۔ ایودھیا میں بھی اسی طرح کے سخت سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ ورنداون میں بانکے بہاری مندر، پریم مندراوردوسرے خاص مندروں میں سخت سیکورٹی ہے۔ پولیس ٹیمیں مذہبی مقامات کے آس پاس چیکنگ کررہی ہیں، گاڑیوں کی اسکریننگ کررہی ہیں اورآنے جانے والوں پرنظررکھ رہی ہیں۔ مقامی پولیس کی مدد کے لئے آگرہ-علی گڑھ رینج کے لوگوں کوبھی ضلع میں تعینات کیا گیا ہے۔
ہزاروں کی تعداد میں پولیس تعینات
پرووینشیل آرمڈ کانسٹیبلری (پی اے سی) اورریپڈ ایکشن فورس (آراے ایف) کے یونٹ اسٹینڈ بائی پرہیں۔ مزید برآں، سادہ لباس والے پولیس افسران کو بڑے مندروں اورمساجد کے قریب تعینات کیا گیا ہے تاکہ ہجوم کے رویے اورآمدورفت پرنظررکھی جا سکے اوراگرضرورت ہوتوفوری کارروائی کی جا سکے۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد پرطویل عرصے سے جاری تنازعہ سے بھی بڑھتی ہوئی سیکورٹی متاثرہورہی ہے۔ ہندوفریق کا الزام ہے کہ یہ مسجد مغل بادشاہ اورنگزیب کے دورمیں بھگوان کرشن کی جائے پیدائش مانے جانے والے مندرکوتوڑکرتعمیرکی گئی تھی۔ یہ کیس اس وقت سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، جس سے علاقے کومزید حساس بنا دیا گیا ہے۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد سپریم کورٹ نے سنایا یہ فیصلہ
6 دسمبرایک الگ الگ سوچ والی تاریخ بنی ہوئی ہے، اس دب کئی مسلم تنظیمیں ’یوم سیاہ‘ کے طورپرمناتی رہی ہیں۔ جسے کچھ ہندوتنظیم ’شوریہ دیوس‘ کے طورپرمناتی ہیں۔ ان الگ الگ تہواروں کی وجہ سے اس دن فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے کے لئے احتیاط کے طورپرپولیسنگ اوربچاوکے انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایودھیا میں 6 دسمبر، 1992 کومشتعل ہجوم نے بابری مسجد کوشہید کردیا تھا۔ اس کے بعد سے ایودھیا میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ عدالت میں معاملے کی سماعت ہوتی رہی، 9 نومبر، 2019 کو سپریم کورٹ نے اس سے متعلق فیصلہ سنایا۔ یہ زمین رام للا وراجمان کودینے کا فیصلہ کیا گیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت اوریوپی حکومت کورام مندرکی تعمیراورانتظامیہ کی نگرانی کے لئے ایک ٹرسٹ بنانے کا حکم دیا اورساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ ایودھیا میں سنی وقف بورڈ کوایک نئی مسجد بنانے کے لئے پانچ ایکڑزمین دی جائے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد 5 اگست، 2020 کورام مندرکی بنیاد رکھی گئی، جس میں وزیراعظم نریندرمودی اورٹرسٹ کے اراکین کے لئے کئی اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…