میلبورن: وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیز نے جمعرات کو میلبورن میں منعقدہ تیسرے بھارت-آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چھ برسوں سے قائم جامع اسٹریٹجک شراکت داری (Comprehensive Strategic Partnership) کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد اہم معاہدوں اور اعلانات کی منظوری دی۔ اجلاس کے دوران ہند-بحرالکاہل خطے کی سلامتی، اہم معدنیات کی سپلائی چین، صاف توانائی، دفاع، خلائی تحقیق، سائبر سکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دفاع اور سلامتی تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جو 2009 کے سلامتی معاہدے کی جگہ لے گا۔ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا بھارت کو اعلیٰ درجے کا دفاعی شراکت دار سمجھتا ہے اور نیا اعلامیہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحت دفاعی مشقوں کو مزید پیچیدہ بنایا جائے گا، اسٹریٹجک رابطہ بڑھایا جائے گا اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی (Interoperability) کو فروغ دیا جائے گا۔
دفاعی اختراعات، سمندری سلامتی اور خلائی تعاون
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت-آسٹریلیا دفاعی اختراعی راہداری (Defence Innovation Corridor) کے قیام کے ذریعے دونوں ممالک دفاعی اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کو آپس میں جوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری سلامتی کے لیے مشترکہ روڈ میپ سے ہند-بحرالکاہل میں دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو نئی قوت ملے گی۔ دونوں ممالک نے کوکوس (کیلنگ) جزائر میں بھارت کے گگن یان انسانی خلائی مشن کی معاونت کے لیے عارضی خلائی ٹریکنگ ٹرمینل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، جو آئندہ خلائی مشنز کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اجلاس کی ایک اہم پیش رفت 2015 کے بھارت-آسٹریلیا جوہری تعاون معاہدے پر عمل درآمد کے لیے انتظامی طریقہ کار کو حتمی شکل دینا رہی۔ اس کے بعد آسٹریلیا بھارت کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں صرف پرامن شہری جوہری توانائی کے مقاصد کے لیے یورینیم برآمد کر سکے گا۔ مودی نے کہا کہ اس معاہدے سے بھارت کے صاف توانائی کے اہداف کو نئی رفتار ملے گی اور 2047 تک جوہری توانائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور سپلائی چین پر معاہدہ
دونوں ممالک نے سائبر سکیورٹی، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چین شراکت داری (PACTS) کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت اہم معدنیات کی مشترکہ راہداری (Critical Minerals Corridor) تیار کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے آسٹریلیا کی جیو سائنس آسٹریلیا اور جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے تاکہ نئی معدنی ذخائر کی تلاش اور عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنایا جا سکے۔
دہشت گردی اور ہند-بحرالکاہل پر مشترکہ مؤقف
دونوں رہنماؤں نے آزاد، کھلے، خوشحال اور قواعد پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دہشت گردی صرف کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، اسی لیے بھارت اور آسٹریلیا کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد مشترکہ ہے اور ان کا عزم ناقابلِ شکست ہے۔ دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس میں آسٹریلیا کی جانب سے بھارتی ثقافتی نوادرات کی واپسی اور بھارت کے چنئی گورنمنٹ میوزیم میں محفوظ آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کے ایک آباؤ اجداد کی باقیات وطن واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا کی شراکت داری صرف آج کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، اور انہوں نے انتھونی البانیز کو آئندہ مذاکرات کے لیے دوبارہ بھارت آنے کی دعوت دی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے CAQM نے نفاذی نظام کا جائزہ لیا، بغیر…
ایکسس بینک کے ویزا اور ماسٹر کارڈ کریڈٹ کارڈز سے شروعات. ماہرین کے مطابق ایپل…
وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بارے میں سوشل…
بیان کے مطابق پلانٹ کی تعمیر پر مجموعی طور پر 16.80 کروڑ روپے خرچ ہوئے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ کا بڑا فیصلہ، گندم، جو، چنا…
منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ (ایم آر پی ایل) کے پلانٹ میں بدھ کو دھماکے…