اگست کے آغاز کے ساتھ ہی عام لوگوں کو مہنگائی کا ایک اور بڑا جھٹکا لگنے والا ہے۔ صبح کی پہلی چائے سے لے کر تہواروں کے سیزن میں نئے کپڑے خریدنے تک، روزمرہ زندگی کی کئی ضروری اشیا مہنگی ہونے جا رہی ہیں۔ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں، خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چائے، صابن اور کاریں بھی ہوں گی مہنگی
مارکیٹ ماہرین کے مطابق اگست سے متعدد شعبوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ روزمرہ استعمال کی ایف ایم سی جی (FMCG) اشیا، جیسے چائے کی پتی، ہیئر آئل اور صابن کی قیمتوں میں تقریباً 6 سے 8 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ گھریلو الیکٹرانکس مصنوعات، جن میں فریج، واشنگ مشین اور ٹی وی شامل ہیں، 4 سے 6 فیصد تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے کیونکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران میموری چپس کی عالمی قیمتیں تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہیں۔گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھنے والوں کو بھی اضافی خرچ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماروتی سوزوکی نے یکم اگست سے اپنی مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں 30 ہزار روپے تک اضافے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ہونڈا اور مرسڈیز سمیت دیگر بڑی آٹو کمپنیاں بھی قیمتیں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات
ماہرین کے مطابق اس مہنگائی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر خام تیل اور پام آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس سے پیکیجنگ میٹریل کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جبکہ سمندری مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری کے باعث خام مال کی درآمد مزید مہنگی ہو گئی ہے، جس سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جون سہ ماہی کے دوران انہوں نے بڑھتی ہوئی لاگت کا صرف ایک حصہ ہی صارفین پر منتقل کیا تھا، تاہم باقی نقصان کی تلافی کے لیے ستمبر سہ ماہی میں قیمتوں میں مزید 2 سے 5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں نئے سیزن کے ملبوسات بھی پہلے کے مقابلے میں مہنگے فروخت کیے جا سکتے ہیں۔
معیشت اور گھریلو بجٹ پر اثرات
ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اثر صرف عام صارفین کے بجٹ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملکی معیشت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق ان حالات کے باعث 2026 میں بھارت کی مجموعی اقتصادی ترقی (جی ڈی پی) کی رفتار، جس کا تخمینہ 6.6 فیصد لگایا گیا تھا، کچھ سست پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح مہنگائی کی شرح 5.4 فیصد سے تجاوز کرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔چونکہ اشیائے خورد و نوش کا حصہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں نمایاں ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں یہ اضافہ براہِ راست ہر گھر کے ماہانہ بجٹ اور روزمرہ اخراجات پر اثر انداز ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست…
شلوک کی تشریح کے مطابق، جو لوگ اس عارضی دنیا اور جسمانی شناخت کو ہی…
ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی…
ان انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو کی جائے گی۔ اسی دن یہ…
وائی ایس آر کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ آندھرا…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر تنظیم فاطمہ نے کہا…