نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں مانسون کی شدید بارشوں کے باعث اتوار کو بھی سیلاب، آبی جماؤ، نقل مکانی اور جانی نقصان کا سلسلہ جاری رہا۔ آسام، کیرالہ، چھتیس گڑھ اور گجرات سمیت کئی ریاستیں شدید متاثر ہیں، جبکہ محکمۂ موسمیات (IMD) نے آئندہ چند دنوں کے دوران مزید موسلا دھار بارش اور اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آسام میں سیلاب کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کے مطابق یکم اگست تک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہو گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق شیوساگر اور چرائی دیو اضلاع میں دو مزید افراد جان کی بازی ہار گئے۔
چھتیس گڑھ میں درجنوں مکانات تباہ، دو بچیاں جاں بحق
چھتیس گڑھ کے ابوجھ ماڑ علاقے میں شدید بارش کے باعث خوفناک سیلاب آیا، جہاں نارائن پور ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ پچاس سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ دو بچیاں ہلاک ہو گئیں۔ متاثرہ رہائشی سونارو رام نے بتایا کہ اچانک آنے والے سیلاب میں تقریباً 16 مکانات بہہ گئے اور لوگوں کو اپنا سامان تک بچانے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں اس نوعیت کی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ریاستی وزیر کیدار کشیپ نے بتایا کہ 28، 29 اور 30 جولائی کو معمول سے کئی گنا زیادہ بارش ہوئی، جس کی شدت بادل پھٹنے جیسے واقعے سے مشابہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین تک فوری امدادی سامان پہنچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ مسلسل کام کر رہی ہے۔
آسام میں ہزاروں افراد متاثر، دیہاتیوں نے ہزار سے زائد جانیں بچائیں
آسام میں سیلاب سے پانچ اضلاع کے 1.92 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 379 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ ریاستی وزیر پیجوش ہزاریکا نے شیوساگر ضلع کے متاثرہ علاقوں ڈیمو اور نازیرا کا دورہ کرکے امدادی و بازآبادکاری اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے محکمہ زراعت کی سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیا۔ دریں اثنا، شیوساگر کے نیپالی کھوتی علاقے کے دیہاتیوں نے صرف چھ دیسی کشتیوں کی مدد سے پانچ دیہات کے ایک ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔ امدادی ٹیم کے رکن چوہان چودھری نے بتایا کہ پانی اتنی تیزی سے گھروں میں داخل ہوا کہ لوگ چھتوں، مچانوں اور درختوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے صنعت کار گوتم اڈانی کی جانب سے 11 کروڑ روپے اور ریلائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے 21 کروڑ روپے چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں عطیہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
کیرالہ، گجرات اور دیگر ریاستوں میں بھی الرٹ
کیرالہ میں بارش سے متعلق مختلف حادثات میں 8 افراد ہلاک، 8 لاپتا اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔ 5,792 افراد کو 209 امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ 27 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 196 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں، بے گھر افراد، کسانوں اور زخمیوں کو ہر ممکن مالی اور طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ ادھر گجرات کے چھ اضلاع، جن میں احمد آباد، راجکوٹ، موربی اور سرینگر (سورندر نگر) شامل ہیں، کے لیے انتہائی شدید بارش کا ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اوڈیشہ میں بھی سیلاب جیسی صورتحال ہے، جبکہ ہماچل پردیش میں ریڈ اور اورنج الرٹ نافذ ہے۔ اتراکھنڈ اور آسام میں بھی پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث ہائی الرٹ برقرار ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے مرکزی امداد کی منظوری دیتے ہوئے گجرات، مہاراشٹر اور اوڈیشہ کو 500، 500 کروڑ روپے، آسام کو 379.35 کروڑ روپے، ہماچل پردیش کو 193.95 کروڑ روپے اور اروناچل پردیش کو 44.55 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ چار سے پانچ دن شمال مشرقی بھارت اور مشرقی و وسطی ہمالیائی دامن میں بارش کی شدت برقرار رہے گی، جبکہ جنوبی ہند کے بیشتر حصوں میں بارش میں کمی متوقع ہے۔ تاہم ساحلی کرناٹک اور جنوبی اندرونی کرناٹک میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کا امکان ہے۔ محکمہ نے ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، لداخ، اتراکھنڈ، کیرالہ اور کرناٹک کے بعض علاقوں میں اچانک سیلاب کے خطرے سے بھی خبردار کرتے ہوئے شہریوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…