آسام اسمبلی انتخابات 2026 کی تیاریاں تیز ہونے کے ساتھ ہی شمال مشرقی بھارت کی سیاست میں ایک نیا سیاسی اتحاد ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے ایگزیکٹو صدر ہیمنت سورین نے آسام کے ضلع بسوناتھ میں منعقد ایک بڑی سیاسی بیداری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کھلا محاذ کھول دیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کی سیاسی سرگرمیوں کا جواب دینے کے لیے وہ پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار ہیں۔ ریلی کے دوران سب سے اہم اعلان جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور مقامی جماعت جئے بھارت پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد کا تھا۔ جئے بھارت پارٹی کے قومی صدر تیہارو گور نے اسٹیج سے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں آسام اسمبلی انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لیں گی۔ اس اتحاد کے تحت تقریباً 40 اسمبلی نشستوں پر امیدوار اتارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ نشستیں زیادہ تر اپر آسام اور ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں چائے کے باغانوں میں کام کرنے والے مزدور اور آدیواسی ووٹر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس نئے اتحاد کی حکمت عملی چائے باغانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور آدیواسی برادری کو ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ بسوناتھ ضلع کے میزیکا چائے باغان میں منعقدہ ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جہاں ہیمنت سورین نے آدیواسیوں اور دلت برادری کے حقوق کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام کی اربوں روپے کی چائے صنعت آدیواسی مزدوروں کی محنت اور پسینے پر قائم ہے۔ اگر یہ مزدور اپنا تعاون واپس لے لیں تو پوری صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔ ہیمنت سورین نے خطاب کے دوران آسام کے آدیواسیوں کو جھارکھنڈ ماڈل کی مثال دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ان کے حقوق کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آدیواسی برادری کو درج فہرست قبائل یعنی ایس ٹی کا درجہ دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی انصاف اور مساوی حقوق کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
ریلی کے دوران ہیمنت سورین نے مہنگائی اور ایل پی جی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر بھی مرکزی اور ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر بڑھتے معاشی بوجھ نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے ایک معروف کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سو سنار کی، ایک لوہار کی‘، اور خبردار کیا کہ عوام کی ایک مضبوط سیاسی ضرب حکمرانوں کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ جب میڈیا نے ان سے براہِ راست پوچھا کہ کیا وہ آسام میں خود انتخاب لڑیں گے تو انہوں نے واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ سیاست حالات کے مطابق چلتی ہے اور وقت آنے پر مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔ ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اب تک آسام کی سیاست میں بنیادی مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان رہا ہے، تاہم ہیمنت سورین کی سرگرمیوں اور 40 نشستوں کے فارمولے نے اس مقابلے کو ممکنہ طور پر سہ فریقی بنا دیا ہے۔ اگر چائے باغانوں کے مزدور اور آدیواسی ووٹر اس نئے اتحاد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو آسام کی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ریلی کے بعد ہیمنت سورین کا مسلم اسٹوڈنٹس یونین کی جانب سے منعقد افطار تقریب میں شرکت کرنا بھی ایک وسیع سماجی اور سیاسی اتحاد کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ اتحاد آسام کی انتخابی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…