مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے بدھ کے روز سنگین لاپرواہی کے ایک معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ریلوے اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پتہ چلا کہ تریپورہ سے کشمیر جانے والے بی ایس ایف جوانوں کے لیے ایک غیر موزوں اور خراب حالت والی ٹرین فراہم کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق علی پور دوار ڈویژن کے چار افسران بشمول ایک کوچنگ ڈپو افسر اور تین سینئر سیکشن انجینئرز کو اس لاپرواہی کے لیے ذمہ دار پایا گیا ہے۔ وزیر ریلوے نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز کا وقار اور سکون ان کی ترجیح ہے اور اس قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے چاروں ریلوے افسران کو معطل کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ ان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ جوانوں نے ٹرین کی خراب حالت کی وجہ سے اس میں سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد فوری طور پر ان کے لیے دوسری اور بہتر ٹرین کا انتظام کیا گیا۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث ہوئی اور سوالات اٹھائے گئے۔
PB-SHABD نے اپنے ٹویٹ میں اس کارروائی کے بارے میں بتایا ہے۔ وزارت ریلوے نے یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ واقعہ ہندوستانی ریلوے کے کام کاج اور جواب دہی پر سوال اٹھاتا ہے، خاص طور پر جب بات سیکورٹی فورسز کے سفر کی ہو۔ تاہم وزیر ریلوے کے فوری ردعمل نے پیغام دیا ہے کہ ایسی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…