قومی

Jamia Students Union Election: اسدالدین اویسی کی پارٹی کا بڑا اعلان، جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبا یونین الیکشن میں امیدوار اتارے گی اے آئی ایم آئی ایم

نئی دہلی: اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اپنا امیدواراتارنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدرشعیب جامعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرپوسٹ کرکے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دودہائیوں بعد جامعہ میں طلبہ یونین کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اوران کی پارٹی بھی انتخابی میدان میں اترے گی۔ شعیب جامعی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ تین سال پہلے دہلی میں اے آئی ایم آئی ایم کی طلبہ تنظیم شروع کی گئی تھی اوراب اس کا مقصد پورا ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے اس تحریک سے وابستہ طلبہ کومبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی کی یہ کامیابی جامعہ سے جڑے ان تمام لوگوں کی ہے جوگزشتہ 20 سال سے اس مطالبے کے لئے کوشش کررہے تھے۔

بھوک ہڑتال پربیٹھے جسیم خان کا بھی کیا ذکر

شعیب جامعی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک کا اہم چہرہ اوربھوک ہڑتال پربیٹھے جسیم خان اے آئی ایم آئی ایم کی طلبہ تنظیم مجلس اسٹوڈنٹس ونگ کے گزشتہ سیشن کے صدررہ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک اورپوسٹ میں کہا کہ جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ شعیب جامعی نے احتجاج کرنے والے طلبہ، خصوصاً مجلس اسٹوڈنٹس ونگ کے صدرجسیم خان اورجامعہ سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کومبارک باد دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے آئی ایم آئی ایم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اپنا امیدواراتارے گی۔

سال 2006 کے بعد نہیں ہوئے تھے طلبہ یونین کے انتخابات

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات 2006 کے بعد سے نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پرگزشتہ تقریباً دوہفتوں سے احتجاج جاری تھا۔ مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین (جے ایم آئی ایس یو) کو بحال کرنے اورانتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس مطالبے سے متعلق4 طلبہ غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال پربھی بیٹھے تھے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے واضح فیصلہ اورانتخابات کرانے کا وقت مقررکیا جانا چاہئے۔

یونیورسٹی نے انتخابات کرانے کے لیے جاری کیا حکم

احتجاج کے درمیان جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے پیر(26 اکتوبر، 2026) کوہدایت جاری کی کہ طلبہ یونین کے آئین کومنظوری ملنے کے 15 دن کے اندرانتخابات کرائے جائیں گے۔ اس حکم کے بعد طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابی عمل کولے کرپیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، مظاہرین کے مطالبات صرف انتخابات تک محدود نہیں تھے۔ طلبہ انتخابات کرانے کے لیے وقت کی پابندی کے ساتھ شیڈول جاری کرنے، ان کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی واپس لینے اورسیکورٹی اہلکاروں پرلگائے گئے مبینہ زیادتیوں کے الزامات کی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔ جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے معاملے پرجاری اس تحریک کے درمیان اے آئی ایم آئی ایم کے انتخابی میدان میں اترنے کے اعلان نے طلبہ سیاست میں پارٹی کی شرکت کوبھی واضح کردیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

تاجروں کی اپیل بے اثر، یکم نومبر کو ہی ہوگی رام لیلا میدان میں انڈیا الائنس کی مہا ریلی، ملیکارجن کھڑگے نے کی یہ بڑی اپیل

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ…

1 hour ago

Judge’s son in a Mercedes released: جج صاحب کا مرسڈیز چلانے والا نابالغ بیٹا رہا، متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر اٹھائے سوال

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…

2 hours ago