بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے جمعہ کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی سیمانچل کے عوام کے حقوق، انصاف اور ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے ہمیشہ محروم طبقات کی آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی وہ اسی مشن کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے بہار کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی ریاست کے عوام کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت سیمانچل کے ترقیاتی مسائل پر خصوصی توجہ دے گی۔ اویسی نے واضح اعلان کیا کہ اے آئی ایم آئی ایم حکومت کے ساتھ تعمیری تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں ترقی کے نئے راستے کھل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا مقصد سیمانچل میں ترقی لانا ہے، جہاں آج بھی شرحِ اموات زیادہ ہے، تعلیم و صحت کی صورتحال بدتر ہے اور بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں اسپتال، اسکول، پل، سڑکیں اور صنعتیں قائم ہوں تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں‘‘۔ پہلے انتخابات میں شکست اور 2022 میں چار منتخب ایم ایل ایز کو توڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل کرانے کی کوششوں کے باوجود، اویسی کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم نے کبھی سیمانچل کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہمیشہ عوامی مسائل پر آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی موجودہ کامیابی ان سازشوں اور سیاسی منافقت کا جواب ہے۔
انہوں نے سیمانچل کے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پانچ امیدواروں کی جیت پورے ملک کے مسلمانوں اور اقلیتوں کو ایک مضبوط پیغام دیتی ہے کہ اگر وہ منظم ہو کر سیاسی طور پر فعال ہوں تو اپنے مسائل حل کرا سکتے ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’آپ صرف ووٹر نہ بنیں، بلکہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اگر آپ ووٹ دے کر چلے جائیں گے تو الیکشن کے بعد آپ کو بھلا دیا جائے گا اور جب مشکل وقت آئے گا تو کوئی ساتھ نہیں دے گا‘‘۔ اویسی نے کہا کہ سیکولر جماعتوں کو اپنی ناکامیوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کسی مخصوص برادری کو الزام نہیں دے سکتے لیکن مسلمان آسان ہدف بن جاتے ہیں کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کے بندھوا ووٹر ہیں۔ اب یہ رویہ ختم ہونا چاہئے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور مہاگٹھ بندھن بی جے پی کو روکنے میں ناکام رہے اور ان کی پہلے کی گئی پیشگوئیاں صحیح ثابت ہوئیں۔ اویسی کے مطابق بہار کے عوام کو ایم-وائی اتحاد کے نام پر گمراہ کیا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے اس بیان کو بھی انہوں نے مسترد کیا جس میں انہوں نے انتخابی نتائج کا ذمہ دار ’’ایس آئی آر‘‘ کو ٹھہرایا تھا۔ اویسی نے کہا کہ ’’سب سے پہلے آپ کو عاجزی اختیار کرنی ہوگی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ بادشاہ ہیں اور عوام رعایا ہے تو یہ سوچ بدلنی ہوگی‘‘۔
بھارت ایکسپریس اردو
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…