جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے ایک افسر کی اہلیہ کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے حساس فوجی معلومات حاصل کرکے غیر ملکی خفیہ ایجنٹوں اور چین سے وابستہ افراد کے ساتھ شیئر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے نے فوج کے سوشل میڈیا ضوابط میں موجود ایک اہم خامی کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ ایک طرف فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں پر سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے سخت پابندیاں ہیں، وہیں ان کے اہل خانہ اور شریک حیات ان سروس ضوابط کے براہ راست دائرے میں نہیں آتے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سائبر جاسوسی کا خطرہ صرف فوجی اہلکاروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ فوج وقتاً فوقتاً بیداری مہم چلاتی ہے، لیکن قانونی حدود کے باعث اہل خانہ پر براہ راست سروس ضوابط نافذ نہ کر پانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
فوجی افسر کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ، سکیورٹی پر سوالات
دستیاب معلومات کے مطابق، افسر کی اہلیہ پر سوشل میڈیا کے ذریعے حساس فوجی معلومات جمع کرنے اور انہیں غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی شہری یا فوجی اہلکار کے اہل خانہ کے خلاف سرکاری رازوں کے قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن آرمی ایکٹ یا فوج کے سروس ضوابط براہ راست فوجی اہلکار کے شریک حیات پر لاگو نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے فوج کے موجودہ ضوابط کے دائرہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فوجی اہلکاروں کے لیے سوشل میڈیا کے سخت ضوابط
بھارتی فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق سخت ضوابط مقرر ہیں۔ فوجی اہلکار اپنی موجودہ جگہ کی نشاندہی نہیں کر سکتے اور نہ ہی وردی میں تصاویر یا سرکاری و غیر سرکاری اجلاسوں کی ویڈیوز پوسٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی نامعلوم شخص سوشل میڈیا پر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے تو اس کی اطلاع فوری طور پر اعلیٰ حکام کو دینا ضروری ہے۔ آپریشنل علاقوں اور فوجی ہیڈکوارٹرز میں اسمارٹ فون کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے۔
فوجی خاندانوں پر ضوابط نافذ کرنا کیوں مشکل ہے؟
قانونی ماہرین اور فوجی حکام کے مطابق، آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج میں خدمات انجام دینے والے جوانوں اور افسران پر ہوتا ہے۔ فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کو آگاہ کرنے کے لیے فلاحی تنظیموں اور داخلی گروپوں کے ذریعے ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔
سال 2017 اور 2019 میں بھی فوج نے اہل خانہ سے اپیل کی تھی کہ وہ سوشل میڈیا سے وردی میں لی گئی تصاویر اور فوج سے متعلق مواد ہٹا دیں۔ تاہم، قانونی طور پر سروس ضوابط کو ان پر اسی طرح لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا، جس طرح فوجی اہلکاروں پر کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اور ہنی ٹریپ کے معاملات پہلے بھی سامنے آئے
آن لائن پلیٹ فارموں اور جاسوسی ایجنٹوں کے ذریعے فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ دسمبر 2019 میں بحریہ کے 7 اہلکاروں کو فیس بک کے ذریعے ہنی ٹریپ میں پھنسا کر جاسوسی کرانے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح، فضائیہ کے اہلکاروں کو بھی جعلی خواتین کی پروفائلز کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانے اور فوجی مشقوں و خفیہ دستاویزات سے متعلق معلومات پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی تک پہنچانے کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی کا اے کیو آئی 284، نوئیڈا کا 315 اور غازی آباد کا 388 ریکارڈ؛…
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ…
وزیر اعظم، وزیر داخلہ امت شاہ، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور مرکزی وزیر شیوراج…
محکمہ موسمیات نے تمل ناڈو، کیرالہ اور مہاراشٹر سمیت 13 ریاستوں میں تیز بارش اور…
ایشین پیرا گیمز 2026 میں بھارتی تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو وزیر اعظم نریندر مودی…
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کو ’ریفائننگ سپر پاور‘ قرار دیتے ہوئے توانائی…