ممبئی: ٹاٹا ٹرسٹ کے سابق ٹرسٹی مہلی مستری نے سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ (ایس ڈی ٹی ٹی) کے انتظامی معاملات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرسٹ کو چلانے کے لیے ایک آزاد ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد دوبارہ ٹرسٹی بننا نہیں بلکہ ادارے میں شفافیت اور قانونی نظام کی بحالی ہے۔ مہلی مستری، جنہوں نے گزشتہ سال نومبر میں اپنی ٹرسٹی شپ سے علیحدگی اختیار کی تھی، نے ممبئی کے چیریٹی کمشنر کے سامنے ایک عرضداشت دائر کرتے ہوئے موجودہ بورڈ آف ٹرسٹیز پر ”سنگین غیر قانونی سرگرمیوں“ کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق ٹرسٹ کی موجودہ انتظامیہ میں کئی ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
اس وقت بورڈ میں نول ٹاٹا بطور چیئرمین، وینو سری نواسن بطور نائب چیئرمین، وجے سنگھ، داریوس کھمباتا، بھاسکر بھٹ اور نیول ٹاٹا شامل ہیں۔ ان میں سے بھاسکر بھٹ اور نیول ٹاٹا کو حال ہی میں مہلی مستری اور پرمیت جھاویری کی جگہ مقرر کیا گیا تھا۔ مہلی مستری نے اپنے اعتراض میں کہا کہ ان کی ٹرسٹی شپ کی تجدید نہ کرنا 2024 کی اس قرارداد کے خلاف ہے جس میں سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ اور سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں کے درمیان باہمی طور پر مستقل بنیادوں پر دوبارہ تقرری پر اتفاق کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جس بورڈ نے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا وہ خود غیر قانونی تھا، کیونکہ نول ٹاٹا اور وینو سری نواسن کی مستقل تقرری مہاراشٹر پبلک ٹرسٹس ایکٹ کی دفعہ 30اے کے خلاف ہے۔ یہ قانون یکم ستمبر 2025 کو نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت ٹرسٹیوں کی تقرری اور مدت سے متعلق واضح حدود مقرر کی گئی ہیں۔ مہلی مستری نے اپنی درخواست میں ٹرسٹ کی گورننس کو شدید متاثر قرار دیتے ہوئے دو ٹرسٹیوں کے خلاف خاص طور پر الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق وجے سنگھ نے ٹاٹا سنز اور دیگر کمپنیوں سے بطور نامزد ڈائریکٹر کمیشن اور فیس کی شکل میں تقریباً 20.13 کروڑ روپے حاصل کیے، جو امانتی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹرسٹی پر لازم ہے کہ وہ ٹرسٹ کے مفاد کو مقدم رکھے اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچے، لیکن اس طرح مالی فائدہ حاصل کرنا ان اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ وینو سرینواسن پر بھی مفادات کے تصادم کا الزام لگایا گیا ہے۔ مستری کے مطابق سرینواسن اور ان کے بیٹے نے جیگوار لینڈ روور کے ایک اعلیٰ عہدیدار گیری میک گورن کو ٹی وی ایس ہولڈنگز کی ذیلی کمپنی کے لیے بطور مشیر مقرر کیا، جو کہ ٹرسٹی کے عہدے کے لحاظ سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ مہلی مستری نے چیریٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان معاملات کی مکمل تحقیقات کرائیں اور اگر ضرورت ہو تو موجودہ بورڈ کو ہٹا کر ایک غیر جانبدار ایڈمنسٹریٹر مقرر کریں تاکہ ٹرسٹ کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹاٹا ٹرسٹس جیسے بڑے فلاحی ادارے کو شفاف، قانونی اور منصفانہ انداز میں چلانا نہایت ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…