قومی

جنترمنتر پرریزرویشن کے خلاف احتجاج سے متعلق پولیس الرٹ، آج بھی بڑی تعداد میں مظاہرین کے پہنچنے کی امید

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے جَنترمنترپرجمعہ کو ذات پرمبنی ریزرویشن کے خلاف سینکڑوں افراد کے احتجاج کے بعد ہفتہ، 22 اگست کوبھی مظاہرین کی تعداد بڑھنے کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مختلف ریاستوں سے نوجوان دہلی پہنچ رہے ہیں۔ جمعہ کے روزاجازت نہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ جَنترمنترپہنچے، جس کے بعد دہلی پولیس اور سیکورٹی فورسزنے موقع پرمورچہ سنبھال لیا۔ دیر شام مظاہرین کووہاں سے ہٹایا گیا، جبکہ کچھ افراد کو حراست میں لئے جانے کی بھی اطلاع ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جمع ہوئے مظاہرین

ریزرویشن کے خلاف اس احتجاج کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی نوجوانوں کو جوڑا گیا تھا۔ مظاہرین بینراورپوسٹرلے کرجَنترمنترپہنچے۔ کئی افراد کے ہاتھوں میں زعفرانی اورترنگے جھنڈے بھی نظرآئے۔ احتجاجی مقام پرایک اسٹیج بنایا گیا تھا، جہاں مقررین نے ریزرویشن کے موجودہ نظام کے خلاف اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ مظاہرین کا سب سے اہم مطالبہ تھا کہ ریزرویشن کی بنیاد ذات کے بجائے معاشی حالت کوبنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی طورپرکمزورافراد کوان کی حقیقی ضرورت کے مطابق تعلیم اوردیگرسہولتوں کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مظاہرین نے موجودہ ریزرویشن نظام کا ازسرنوجائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران اجیت بھارتی نے ریزرویشن نظام کا ہر10 سال میں جائزہ لینے کی ضرورت پرزوردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقفے وقفے سے یہ جانچ ہونی چاہیے کہ ریزرویشن کا فائدہ واقعی سب سے زیادہ محروم افراد تک پہنچ رہا ہے یا نہیں۔

کِریمی لئیر کا اصول نافذ کرنے کا مطالبہ

مظاہرے میں شامل انل مشرا نامی شخص نے ریزرویشن نظام میں کِریمی لئیرکا اصول نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ایس سی، ایس ٹی اوراوبی سی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی کی بات بھی کہی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری سہولتوں کا فائدہ حقیقی ضرورت مند افراد تک پہنچنا چاہیے۔ احتجاج کے دوران کچھ مظاہرین نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ پربھی اعتراض کیا اوراسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

یوجی سی کے ضوابط میں تبدیلی کا مطالبہ

ریزرویشن کے مسئلے کے ساتھ مظاہرین نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) کے ضوابط پربھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے یوجی سی کے ایکویٹی سے متعلق بعض دفعات میں تبدیلی اور تعلیمی اداروں میں قواعد کے مبینہ غلط استعمال کوروکنے کا مطالبہ کیا۔ جمعہ کے روزاحتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ہرش دوبے نے موجودہ ریزرویشن نظام کوامتیازی قراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی طورپرکمزورطبقے کے بچوں کوتعلیم اوردیگرسہولتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ضرورت مند افراد کی مدد کی جانی چاہیے۔

میرٹھ سے آئے مظاہرین نے بھی معاشی بنیاد کی حمایت کی

میرٹھ سے پہنچے مکول کوشک نے کہا کہ ریزرویشن کی بنیاد ذات کے بجائے معاشی حالت ہونی چاہئے۔ وہیں دہلی یونیورسٹی کے طالب علم سُرجیت راٹھورنے کہا کہ معاشی طورپرکمزور لوگوں کی مدد ضروری ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ فائدہ حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچے۔ احتجاج میں آل انڈیا کشتریہ مہاسبھا، کرنی سبھا سمیت مختلف سماجی، مذہبی اور ذات پرمبنی تنظیموں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس کے باعث احتجاج میں مختلف گروہوں کی شمولیت دیکھنے کو ملی۔ دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی، اس کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین جَنترمنترپہنچ گئے۔ سیکورٹی کے پیش نظرموقع پردوسطحی بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔

پولیس اورآراے ایف نے سنبھالا محاذ

بھیڑبڑھنے کے بعد دہلی پولیس اورریپڈ ایکشن فورس (آراے ایف) کے اہلکارموقع پرپہنچے۔ دیرشام سیکورٹی فورسیزنے مظاہرین کوجَنترمنترسے ہٹایا۔ کچھ افراد کوحراست میں بھی لیا گیا۔ ہفتہ کومختلف ریاستوں سے مزید نوجوانوں کے دہلی پہنچنے کی اطلاعات کے پیش نظرجَنترمنترپرسیکورٹی انتظامات پرنظررکھی جا رہی ہے۔

مظاہرین کے کیا ہیں اہم مطالبات؟

مظاہرین کے اہم مطالبات میں ذات کے بجائے معاشی بنیاد پرریزرویشن، معاشی طورپرکمزورافراد کوسہولتوں کا فائدہ، ریزرویشن نظام کا جائزہ، کِریمی لئیرکا اصول نافذ کرنا اورریزرویشن کا فائدہ حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی اوراوبی سی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی، ایس سی-ایس ٹی ایکٹ پراعتراض اوریوجی سی کے ضوابط میں تبدیلی کے مطالبات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ جمعہ کے احتجاج کے بعد اب ہفتہ، 22 اگست کوجَنترمنترپرمظاہرین کی تعداد بڑھتی ہے یا نہیں، اس پرسب کی نظرہے۔ پولیس اورسیکورٹی فورسیز کی موجودگی کے درمیان مظاہرین اپنے مطالبات سے متعلق آگے کیا حکمت عملی اختیارکرتے ہیں، یہ بھی اہم ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

2 hours ago