نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز وزیراعظم نریندر مودی کی نئی کتاب ‘دی ایمرجنسی ڈائریز – وہ سال جنہوں نے ایک لیڈر کو تراشا’ کی رونمائی کے موقع پر ایمرجنسی کے دوران ان کی جدوجہد کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح نوجوان مودی نے 1975 کی ایمرجنسی کے خلاف زیر زمین سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے سادھو، سردارجی، ہپی، اگربتی بیچنے والے اور اخبار فروش کے روپ میں کام کیا۔
وزیراعظم نے ایمرجنسی کے خلاف بیداری پیدا کی
امت شاہ نے بتایا کہ وزیراعظم مودی نے MISA (Maintenance of Internal Security Act) کے تحت گرفتار کیے گئے افراد سے ملاقات کی، ان کے اہل خانہ کی مدد کی اور ان کے لیے طبی سہولیات کا بندوبست کیا۔ انہوں نے خفیہ طور پر شائع ہونے والے اخبارات کو بازاروں، طلباء اور خواتین تک پہنچایا تاکہ ایمرجنسی کے خلاف بیداری پیدا کی جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسے نوجوان کارکن کی کہانی ہے جو 19 مہینوں تک ایمرجنسی کے خلاف تحریک میں شامل رہا۔ مودی جی نے ایم آئی ایس اے کے قیدیوں کے گھروں کا دورہ کیا، ان کا علاج کروایا اور اس وقت چھپنے والے خفیہ اخبارات کو لوگوں تک پہنچایا۔ وہ گجرات میں 24-25 سال کی عمر میں ایمرجنسی کے خلاف لڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی جی نے زمینی سطح پر سادھو، سردارجی، ہپی، اگربتی بیچنے والے اور اخبار فروش کے روپ میں کام کیا تاکہ تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے۔
عام انتخابات میں مودی کی جیت ‘قدرتی انصاف’
امت شاہ نے 2014 کے عام انتخابات میں مودی کی جیت کو ‘قدرتی انصاف’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ایک 25 سالہ نوجوان جو اندرا گاندھی کی آمریت کے خلاف لڑا، آج اس نے اسی وجہ کو ختم کر دیا جس کے سبب ایمرجنسی نافذ ہوئی تھی — یعنی خاندانی سیاست۔ یہ قدرت کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہی نوجوان جو آمریت کے خلاف لڑا، آج ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
کتاب کے بارے میں
یہ کتاب “The Emergency Diaries – Years That Forged a Leader”، BlueKraft Digital Foundation کے ذریعے شائع کی گئی ہے، جس میں ان افراد کے پہلے شخصی تجربات شامل ہیں جو اُس وقت مودی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ یہ کتاب دستاویزی مواد اور چشم دید گواہیوں پر مبنی ہے، جو ایک نوجوان کی شکل میں ابھرنے والے اس رہنما کی ابتدائی سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالتی ہے۔
وزیراعظم مودی کی پوسٹ
اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک سلسلہ وار پوسٹس میں لکھا: The Emergency Diaries میرے ایمرجنسی کے دنوں کے سفر کو بیان کرتی ہے۔ ان یادوں کو دوبارہ زندہ کر کے جذباتی ہو گیا ہوں۔ میں ان تمام لوگوں سے گزارش کرتا ہوں جو اس دور کو یاد کرتے ہیں یا جن کے خاندانوں نے اس دور میں تکلیفیں جھیلیں، وہ اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ نوجوان نسل اس شرمناک دور (1975-77) سے آگاہ ہو سکے۔
ایمرجنسی مخالف تحریک میرے لیے ایک تجربہ
انہوں نے مزید لکھا: ایک نوجوان آر ایس ایس پرچارک کے طور پر ایمرجنسی مخالف تحریک میرے لیے ایک سیکھنے کا تجربہ تھا۔ اس نے جمہوری اقدار کو محفوظ رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔ اس دوران مجھے مختلف نظریات کے لوگوں سے سیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے خوشی ہے کہ BlueKraft Digital Foundation نے ان تجربات کو کتاب کی شکل میں پیش کیا، جس کا پیش لفظ جناب ایچ ڈی دیوے گوڑا جی نے تحریر کیا ہے، جو خود ایمرجنسی مخالف تحریک کے ایک اہم رہنما رہے ہیں۔
آمرانہ نظام کے خلاف آوازایک مکمل دستاویز
یہ کتاب محض ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کی جمہوری تاریخ کے ایک تاریک مگر فیصلہ کن باب پر روشنی ڈالتی ہے، جہاں ایک نوجوان کارکن نے ایک آمرانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی، اور بعد میں ملک کا وزیراعظم بنا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…