نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے تیسرے سرسنگھ چالک مدھوکر دتاتریہ دیورس، جنہیں پورا ملک احترام کے ساتھ ’’پوجنیہ بالاساہب دیورس‘‘ کے نام سے جانتا ہے، کی آج برسی منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں انہیں یاد کیا جا رہا ہے۔ بھارتی سیاست اور سماجی اصلاحات کی تاریخ میں بالاساہب دیورس کا نام ایک ایسے منتظم اور رہنما کے طور پر درج ہے جنہوں نے معاشرے کو جوڑنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ان کی برسی کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں سماجی ہم آہنگی کا بڑا علمبردار قرار دیا۔
چھوا چھوت کو سب سے بڑا سماجی ناسور قرار دیا
امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا، ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے تیسرے سرسنگھ چالک، پوجنیہ بالاساہب دیورس جی کو ان کی برسی پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قوم کی خدمت، سماجی ہم آہنگی اور نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے بالاساہب دیورس چھوا چھوت کو معاشرے کا سب سے بڑا ناسور تصور کرتے تھے۔ امت شاہ نے مزید لکھا کہ ایمرجنسی کے کٹھن دور میں بھی سنگھ کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کو جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحرک کرنے والے بالاساہب دیورس ہمیشہ ہم سب کے لیے باعثِ تحریک رہیں گے۔
राष्ट्रीय स्वयंसेवक संघ के तृतीय सरसंघचालक, पूजनीय बालासाहब देवरस जी को उनकी पुण्यतिथि पर नमन।
राष्ट्रसेवा, सामाजिक समरसता और युवाओं के चरित्र निर्माण के लिए अपना जीवन समर्पित करने वाले बालासाहब देवरस जी अस्पृश्यता को सबसे बड़ा अभिशाप मानते थे। आपातकाल के कठिन दिनों में भी संघ को… pic.twitter.com/YGnP6l94mB— Amit Shah (@AmitShah) June 17, 2026
ذات پات اور چھوا چھوت کے خلاف مضبوط آواز
ایک ایسے دور میں جب معاشرہ ذات پات کی بنیاد پر تقسیم تھا، بالاساہب دیورس نے دوٹوک انداز میں کہا تھا، ’’اگر چھوا چھوت گناہ نہیں ہے تو پھر دنیا میں کوئی چیز گناہ نہیں۔‘‘ انہوں نے سنگھ کے اندر اور باہر وسیع پیمانے پر سماجی اصلاحات کی حمایت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک معاشرے کا ہر طبقہ ایک ساتھ نہیں آئے گا، ایک مضبوط راشٹرا کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دلتوں اور پسماندہ طبقات کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے زمینی سطح پر مسلسل کام کیا۔
جیل میں قید کے باوجود حوصلہ بلند رہا
امت شاہ نے اپنے بیان میں ایمرجنسی کا خصوصی ذکر کیا، جسے بھارتی جمہوریت کا ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ 1975 میں جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی، اس وقت بالاساہب دیورس ہی سنگھ کے سربراہ تھے۔ انہیں گرفتار کرکے یرودا جیل میں قید کر دیا گیا تھا، لیکن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے بھی ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔
جمہوریت کی بحالی کے لیے مسلسل رہنمائی
بالاساہب دیورس نے جیل سے ہی نوجوانوں اور رضاکاروں کی رہنمائی جاری رکھی۔ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں، ستیہ گرہ اور شہری حقوق کی مہمات میں سنگھ کی پوری طاقت جھونک دی۔ انہوں نے نہ صرف تنظیم کو منتشر ہونے سے بچایا بلکہ نوجوانوں میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے نئی توانائی اور عزم بھی پیدا کیا۔
بھارت ایکسپریس۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…