قومی

Amit Shah Pays Tribute to Balasaheb Deoras: بالاساہب دیورس کی برسی پر امت شاہ کا خراجِ عقیدت، کہا- ایمرجنسی کے دوران جمہوریت کے محافظ تھے

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے تیسرے سرسنگھ چالک مدھوکر دتاتریہ دیورس، جنہیں پورا ملک احترام کے ساتھ ’’پوجنیہ بالاساہب دیورس‘‘ کے نام سے جانتا ہے، کی آج برسی منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں انہیں یاد کیا جا رہا ہے۔ بھارتی سیاست اور سماجی اصلاحات کی تاریخ میں بالاساہب دیورس کا نام ایک ایسے منتظم اور رہنما کے طور پر درج ہے جنہوں نے معاشرے کو جوڑنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ان کی برسی کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں سماجی ہم آہنگی کا بڑا علمبردار قرار دیا۔

چھوا چھوت کو سب سے بڑا سماجی ناسور قرار دیا

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا، ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے تیسرے سرسنگھ چالک، پوجنیہ بالاساہب دیورس جی کو ان کی برسی پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قوم کی خدمت، سماجی ہم آہنگی اور نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے بالاساہب دیورس چھوا چھوت کو معاشرے کا سب سے بڑا ناسور تصور کرتے تھے۔ امت شاہ نے مزید لکھا کہ ایمرجنسی کے کٹھن دور میں بھی سنگھ کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کو جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحرک کرنے والے بالاساہب دیورس ہمیشہ ہم سب کے لیے باعثِ تحریک رہیں گے۔

 

ذات پات اور چھوا چھوت کے خلاف مضبوط آواز

ایک ایسے دور میں جب معاشرہ ذات پات کی بنیاد پر تقسیم تھا، بالاساہب دیورس نے دوٹوک انداز میں کہا تھا، ’’اگر چھوا چھوت گناہ نہیں ہے تو پھر دنیا میں کوئی چیز گناہ نہیں۔‘‘ انہوں نے سنگھ کے اندر اور باہر وسیع پیمانے پر سماجی اصلاحات کی حمایت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک معاشرے کا ہر طبقہ ایک ساتھ نہیں آئے گا، ایک مضبوط راشٹرا کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دلتوں اور پسماندہ طبقات کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے زمینی سطح پر مسلسل کام کیا۔

جیل میں قید کے باوجود حوصلہ بلند رہا

امت شاہ نے اپنے بیان میں ایمرجنسی کا خصوصی ذکر کیا، جسے بھارتی جمہوریت کا ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ 1975 میں جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی، اس وقت بالاساہب دیورس ہی سنگھ کے سربراہ تھے۔ انہیں گرفتار کرکے یرودا جیل میں قید کر دیا گیا تھا، لیکن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے بھی ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

جمہوریت کی بحالی کے لیے مسلسل رہنمائی

بالاساہب دیورس نے جیل سے ہی نوجوانوں اور رضاکاروں کی رہنمائی جاری رکھی۔ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں، ستیہ گرہ اور شہری حقوق کی مہمات میں سنگھ کی پوری طاقت جھونک دی۔ انہوں نے نہ صرف تنظیم کو منتشر ہونے سے بچایا بلکہ نوجوانوں میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے نئی توانائی اور عزم بھی پیدا کیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Bharat Express

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

54 minutes ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

1 hour ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

2 hours ago