نئی دہلی :سکھوں کے پانچویں گرو، شری گرو ارجن دیو جی کے یوم شہادت پر ملک بھر میں انہیں عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے گرو صاحب کی عظیم خدمات، روحانی ورثے اور لازوال قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہے گی۔امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا کہ پانچویں گرو، شری گرو ارجن دیو جی کے یوم شہادت پر انہیں کروڑوں بار نمن کرتا ہوں۔ آدی گرنتھ کی تدوین کے ذریعے انسانیت کو ایک انمول ورثہ عطا کرنے والے اور دنیا کو انسانیت کا راستہ دکھانے والے گرو صاحب نے ہرمندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) کی تعمیر بھی مکمل کرائی۔انہوں نے مزید کہا کہ گرو ارجن دیو جی نے مغل حملہ آوروں کے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جبری مذہب تبدیلی کے خلاف مضبوط آواز بلند کی۔ ان کی قربانی کی داستان ملک کے ہر فرد کو اپنی ثقافت، مذہب اور مادروطن کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتی رہے گی۔
पंचम गुरु, श्री गुरु अर्जन देव जी के शहीदी दिवस पर उन्हें कोटि-कोटि वंदन।
आदि ग्रंथ का संकलन कर मानव समाज को अमूल्य विरासत देने वाले और मानवता का मार्ग दिखाने वाले गुरु साहिब जी ने हरमंदिर साहिब का निर्माण पूर्ण कराया। मुगल आक्रांताओं का कठोर प्रतिकार करते हुए धर्मांतरण के खिलाफ… pic.twitter.com/IWO29TKMAJ— Amit Shah (@AmitShah) June 18, 2026
گرو ارجن دیو جی کی سب سے بڑی خدمات میں سکھ مذہب کے مقدس گرنتھ “آدی گرنتھ” کی تدوین شامل ہے۔ انہوں نے اس عظیم مذہبی کتاب میں نہ صرف سکھ گروؤں کی تعلیمات کو جمع کیا بلکہ کبیر داس، بابا فرید اور سنت رویداس جیسے بزرگوں کے کلام کو بھی شامل کیا، جس سے مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام عام ہوا۔
امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مقام ہرمندر صاحب کی تعمیر کی تکمیل بھی گرو ارجن دیو جی کی نگرانی میں ہوئی۔ اس کی بنیاد صوفی بزرگ میاں میر کے ہاتھوں رکھوائی گئی، جو ان کے وسیع النظر اور ہم آہنگی پر مبنی نظریے کی عکاسی کرتی ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق مغل بادشاہ جہانگیر کے دورِ حکومت میں گرو ارجن دیو جی کو اپنے عقیدے اور اصولوں پر قائم رہنے کی وجہ سے شدید اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، لیکن انہوں نے ہر طرح کے ظلم کے باوجود اپنے نظریات سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔شدید گرمی میں انہیں گرم لوہے کی تَوے پر بٹھایا گیا اور ان کے جسم پر کھولتی ریت ڈالی گئی، مگر انہوں نے صبر، استقامت اور بھگوان پر یقین کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کی شہادت آج بھی انسانیت، حق، مذہبی آزادی اور قربانی کی ایک عظیم مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
فلائی دبئی کی پرواز میں بڑے فضائی حادثے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کرنے…
جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید…
اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے…
ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے…
وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب ضروری ہے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے رام ناتھ کووند کو یوم پیدائش کی مبارکباد دیتے…