نئی دہلی: دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرمرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہمارے لئے عہدے سے زیادہ اہم ملک اورنوجوان طالب ہیں۔ دھرمیندرپردھان نے 25 جولائی دوپہرمیں اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں کے حادثہ سے ان کا دل بہت مایوس ہے اوریہ موضوع ان کے لئے انفرادی وقار کا موضوع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کا احترام کرتی ہے اور پیپرلیک کے خلاف سدھارکے لئے پابندعہد ہے۔
بی جے پی کے لئے ملک سب سے اہم: امت شاہ
وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا- ’’بی جے پی کے کارکنان کے لئے عہدہ سے کہیں زیادہ اہم ملک، ہماری نوجوان نسل اورطلبا ہیں۔ آج دھرمیندرپردھان جی کا اپنے عہدے سے استعفیٰ اسی کوظاہرکرتا ہے۔ مودی حکومت ملک کے نوجوانوں کے جذبات کا احترام کرتی ہے اورپیپرلیک کے خلاف ضروری اصلاحات کے لئے پابند عہد ہے۔ پیپرلیک کے قصورواروں کوسخت سزا ملے، اس کے لئے مودی جی کے ذریعہ لئے گئے فیصلے قابل تعریف ہیں۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ ان اقدامات سے نیٹ امتحان میں کامیاب ہوئے طلبا کے ساتھ پورا انصاف ہوگا۔‘‘
وزیرداخلہ نے دھرمیندرپردھان کے کاموں کی تعریف کی
انہوں نے کہا، “دھرمیندرپردھان جی نے اپنے دورمیں، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مؤثرنفاذ، مادری زبانوں میں امتحانات کی فراہمی، پی ایم شری اسکولوں کی توسیع، ڈیجیٹل تعلیم کوفروغ دینے، ہنرمندی کی ترقی، اورصنعت-تعلیمی ہم آہنگی کومضبوط بنانے کے لئے اہم اصلاحات کی ہیں۔ امتحانی نظام کومزید جامع بنانے کے لئے ان کی کوششیں بھی ان کی عکاسی کرتی ہیں اوریہ ایک بہت اہم معاملہ ہے۔ ان کا دوراقتدارہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کے تئیں ان کی لگن کا عکاس ہے۔
भाजपा के कार्यकर्ताओं के लिए पद से कहीं अधिक महत्वपूर्ण देश, हमारी युवा पीढ़ी और विद्यार्थी हैं। आज केंद्रीय शिक्षा मंत्री श्री @dpradhanbjp जी का अपने पद से इस्तीफा इसी को दर्शाता है।
मोदी सरकार देश के युवाओं की भावनाओं का सम्मान करती है और पेपर लीक के विरुद्ध आवश्यक सुधारों के… https://t.co/p12wLKGUkm
— Amit Shah (@AmitShah) July 25, 2026
پرہلاد جوشی کوسونپی گئی وزارت تعلیم کی اضافی ذمہ داری
وزیراعظم نریندرمودی کے مشورے پرصدرجمہوریہ دروپدی مرمونے دھرمیندرپردھان کا یونین کونسل آف منسٹرس سے استعفیٰ فوری طورپرقبول کرلیا ہے۔ دریں اثنا، صدرجمہوریہ نے مرکزی کابینہ کے وزیرپرہلاد جوشی کووزارت تعلیم کی اضافی ذمہ داری دی ہے، جبکہ وہ خوراک اورصارفین کے امورکے مرکزی وزیرکے طورپراپنی موجودہ ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ ملک کے کئی حصوں میں زور پکڑنے والے ان احتجاجی مظاہروں نے وزارت گہرے عوامی اورسیاسی جانچ کے دائرے میں لا دیا تھا۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد طلبا نے منایا جشن
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کے بعد ہفتہ کے روزدہلی کے جنترمنترپراحتجاج کرنے والے طلباء اورنوجوان خوشی سے جھوم اٹھے۔ مظاہرین نے جشن منایا اوراسے اپنی دیرینہ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی قراردیا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک وزیرکا استعفیٰ نہیں ہے بلکہ تعلیمی نظام میں احتساب کے قیام کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج صرف استعفوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ملک کے تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات نہیں کی جاتیں اورامتحانی نظام کوشفاف نہیں بنایا جاتا۔
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…