قومی

Middle East Tensions: ایران کے ساتھ کشیدگی کے درمیان مشرق وسطیٰ سے امریکی عوام کا انخلا، صدر ٹرمپ نے کہا- کیونکہ یہ ہو سکتا ہے خطرناک

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے تعطل اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پیش نظر وائٹ ہاؤس نے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک سے اپنے کچھ ملازمین کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ احتیاط کے طور پر لیا گیا ہے، کیونکہ یہ علاقہ اب ممکنہ طور پر ’خطرناک‘ بن چکا ہے۔

’’کیونکہ وہ علاقہ خطرناک ہوسکتا ہے‘‘

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اپنے لوگوں کو وہاں سے نکال رہے ہیں، کیونکہ وہ علاقہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ ہم نے وہاں سے انخلاء کا نوٹس دے دیا ہے۔‘‘

’’ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جا سکتا ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے سخت موقف کا اعادہ کیا۔ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا، ’’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ بہت سیدھی بات ہے۔ ہم انہیں جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

عراق میں امریکی مشن کی موجودگی گھٹانے کا فیصلہ

ٹرمپ کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد آیا ہے کہ امریکہ عراق میں اپنا سفارت خانہ جزوی طور پر خالی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا، ’’ہمارے حالیہ تجزیے کی بنیاد پر، ہم نے عراق میں اپنے مشن کی موجودگی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے تمام سفارت خانوں میں عملے کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پرھیں: ٹرمپ نے مسک کی معافی کر لی قبول، کشیدگی ختم کرنے کا دیا اشارہ

بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کی مرضی سے واپسی کی منظوری دی۔ عراق سے عملے کو ہٹانے کے پیچھے سیکورٹی خدشات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔

’’جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے ایران‘‘

کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، آرکنساس کے امریکی سینیٹر ٹام کاٹن نے جمعرات کو کہا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تصدیق کی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

7 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

7 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

8 hours ago