قومی

American bases are a guarantee of slavery in the Middle East-Prof Anwar Pasha: ”مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے غلامی کی ضمانت“: پروفیسر انور پاشا۔امریکہ-اسرائیل اور ایران کے بیچ خونریز جنگ کے درمیان ایک بڑا بیان

نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ترجمان اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق پروفیسر ڈاکٹر انور عالم پاشا نے ایک سلسلہ وار بیانات میں محبت و اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت اور ایران کے دفاعی موقف پر گہرے تجزیاتی خیالات کا اظہار کیا۔

محبت بے نیاز، نفرت محتاج
پروفیسر پاشا نے اپنے فلسفیانہ انداز میں کہا کہ معاشرے میں پھیلی نفرت اور نفاق کے پاس لاکھوں جواز موجود ہو سکتے ہیں، لیکن محبت اور اتحاد کسی جواز کا محتاج نہیں ہوتا۔ انہوں نے دعائیہ انداز میں کہا، “اللہ ہمیں محبت و اتحاد کی توفیق عطا فرمائے – آمین” ۔ انہوں نے شاعرانہ انداز میں خبردار کیا کہ وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے اور بیدار ہو جانا چاہیے، ورنہ پھر موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔

امریکی فوجی اڈے: غلامی کی زنجیر
اپنے بیان کے اہم ترین حصے میں پروفیسر انور پاشا نے عرب ممالک پر سوال اٹھایا کہ وہ اپنا دفاعی نظام مضبوط کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عرب ممالک کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر امریکہ نے پورے خطے کو اپنی کالونی بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے نہ صرف اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ خطے کے حکمرانوں کو کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتے ہوئے قدرتی وسائل کا استحصال بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا، “امریکہ کے ملیٹری بیسیز اس خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ جب تک یہ بیسیز اس خطے میں رہیں گے، یہ خطہ غلام بنا رہے گا۔”

ایران کی مجبوری اور معذرت
پروفیسر پاشا نے حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی فوجی اڈوں کی وجہ سے امریکہ ایران پر جارحانہ حملہ کرنے میں کامیاب ہے۔ انہوں نے ایران کے دفاعی اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا، “اپنے دفاع کے لیے ان بیسیز کو نشانہ بنانا ایران کی مجبوری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ اس کا ہدف عرب ممالک نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ واقعے پر ایران نے باضابطہ معافی بھی مانگی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں مزید احتیاط برتی جائے گی۔

آپسی بدگمانیوں کا خاتمہ
آخر میں آر جے ڈی کے سینئر لیڈر نے امید ظاہر کی کہ اس وضاحت کے بعد دونوں فریقوں کی آپسی بدگمانیاں ختم ہوں گی۔ انہوں نے دعا کی، “امید ہے کہ اب آپسی بدگمانیاں ختم ہوں گی – اللہ کرے ایسا ہی ہو – آمین” ۔ واضح رہے کہ پروفیسر انور عالم پاشا کا شمار سنجیدہ اور صاحبِ بصیرت سیاسی تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ جے این یو میں سینٹر فار انڈین لینگویجز کے سربراہ رہ چکے پاشا کو آر جے ڈی نے قومی ترجمان بنایا تھا، اور وہ اپنے فکری انداز اور ادبی حوالوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dr. Khalid Raza Khan

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

4 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

5 hours ago