قومی

گڑگاؤں میں بنگالی نژاد مسلم مزدوروں کے خلاف ظلم وستم کا الزام، اے پی سی آر نے حالات کا لیا جائزہ

نئی دہلی: ہریانہ کے شہرگڑگاؤں میں ایک سنگین انسانی بحران نے جنم لے لیا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں بنگالی نژاد مسلم مزدوراپنے گھروں کوچھوڑنے پرمجبورہوگئے ہیں۔ ان مزدوروں کے خلاف مبینہ طورپرہریانہ پولیس کی طرف سے غیرقانونی گرفتاری، تحویل میں بدسلوکی اورفرقہ وارانہ بنیادوں پر نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی ٹیم نے موقع واردات پرپہنچ کرحالات کا جائزہ لیا۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کوغیرقانونی طورپرحراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ ترافراد کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اوریہ لوگ دہائیوں سے تعمیرات، گھریلوکام، فیکٹریوں، صفائی، ری سائیکلنگ اور ڈرائیوری جیسے شعبوں میں کام کرکے شہرکی معیشت میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔ تاہم، حالیہ کارروائیوں میں انہیں “غیرقانونی بنگلہ دیشی پناہ گزین” قراردے کرنشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے پاس ووٹرآئی ڈی، آدھارکارڈ، راشن کارڈ جیسے قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن سیاسی ایجنڈے کے تحت ایک محنت کش اقلیت کو بےدخل کرنے کی منظم کوشش ہے۔

متاثرہ مزدوروں نے سنائی ٹیم کواپنی روداد

ایک متاثرہ مزدورنے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسے اور12 دیگرافراد کوشکرپورگاؤں سے بغیرکسی وجہ یا وارنٹ کے اٹھا لیا گیا۔ انہیں مختلف پولیس چوکیوں میں گھمایا گیا اورآخرکارسیکٹر 31 کے ایک کمیونٹی ہال میں رکھا گیا، جوبظاہرایک خفیہ حراستی مرکز کے طورپراستعمال ہو رہا ہے۔ اے پی سی آرکے مطابق، متاثرہ شخص کا کہنا ہے”ہم سے فون لے لیے گئے، کسی کوگھر والوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ ہمیں بتایا تک نہیں گیا کہ ہمیں کیوں اٹھایا گیا۔ بس مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔” حراست کے دوران انہیں باسی اورناقابلِ خوردنی کھانا دیا گیا اوراگرکسی نے سوال کیا یا مدد مانگی، تواسے مارا پیٹا گیا۔ ایک پولیس اہلکارنے یہاں تک کہہ دیا: “تم لوگ روزہ نہیں رکھتے، تمہیں کھانے کی کیا فکرہے؟”

اے پی سی آرنے ریکارڈ کی گواہی

سماجی تنظیم ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم، جس میں ندیم خان، لئیق احمد خان اوروکیل ایم حذیفہ شامل تھے، نے درجنوں متاثرین کی گواہی ریکارڈ کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع اورمنظم مہم ہے جومخصوص لسانی ومذہبی گروہ کونشانہ بنا رہی ہے۔ ندیم خان نے کہا کہ یہ قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ کھلی فرقہ وارانہ پروفائلنگ ہے، لوگ جودہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں، انہیں اجنبی قراردیا جا رہا ہے۔

شہرکی تعمیرکرنے والوں کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کا الزام

ایڈووکیٹ حذیفہ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جنہوں نے اس شہرکی تعمیرمیں حصہ لیا، آج اسی شہرمیں اجنبیوں کی طرح سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے اس معاملے میں فوری عدالتی تحقیقات، لاپتہ افراد کی بازیابی، ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی، متاثرہ خاندانوں کومعاوضہ اوروزارت داخلہ کی پالیسیوں کی شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago