بھارت نے آپریشن سندور کے بعد دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سات تمام جماعتی وفود 33 عالمی دارالحکومتوں میں بھیجے ہیں۔ یہ وفود، جن میں 51 سیاسی رہنما اور 8 سابق سفارت کار شامل ہیں، پاکستان سے سرپرستی حاصل کرنے والی دہشت گردی کے خلاف بھارت کے سخت موقف کو واضح کر رہے ہیں۔ یہ اقدام 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، اور اس کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو آپریشن سندور شروع کیا، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں نو دہشت گرد اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان وفود نے روس، جاپان، متحدہ عرب امارات، فرانس، اور دیگر ممالک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، اور میڈیا کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ روس نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی، جبکہ جاپان نے بھارت کے موقف کی غیر مشروط حمایت کا اظہار کیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون پر زور دیا۔ ان ملاقاتوں میں وفود نے پاکستان کے دہشت گردی کی سرپرستی کے ثبوت پیش کیے اور بھارت کے “صفر برداشت” (zero tolerance) کے نظریے پر زور دیا۔
یہ وفود بھارت کی جانب سے ایک متحدہ قومی موقف کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کی قیادت بی جے پی کے رہنما بجینت جے پانڈا، روی شنکر پرساد، جے ڈی یو کے سنجے جھا، شیو سینا کے شریکانت شندے، کانگریس کے ششی تھرور، ڈی ایم کے کی کنیموژی کروناندھی، اور این سی پی کی سپریا سولے کر رہے ہیں۔ ان وفود میں مختلف جماعتوں کے اراکین شامل ہیں، جو بھارت کی سیاسی یکجہتی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جاپان کے وفد میں کانگریس کے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید اور ٹی ایم سی کے ابھیشیک بنرجی شامل تھے، جنہوں نے پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی کو عالمی خطرہ قرار دیا۔
آپریشن سندور کے بعد بھارت نے نہ صرف فوجی کارروائی کی بلکہ سفارتی دباؤ بھی بڑھایا۔ بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کیا اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں پر پابندی لگائی۔ یہ وفود عالمی برادری کو پاکستان کے کردار سے آگاہ کر رہے ہیں، جیسے کہ 26/11 ممبئی حملوں اور پٹھانکوٹ جیسے واقعات میں اس کی شمولیت۔ وفود کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنا اور بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت حاصل کرنا ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر غیر ملکیوں کو آپریشن کے بارے میں بریف کیا۔
اس سفارتی اقدام نے بھارت کو عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی دلائی ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس تنازع سے مکمل طور پر فاتح کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ آپریشن سندور جاری ہے اور موجودہ جنگ بندی صرف ایک وقفہ ہے۔ یہ وفود بھارت کے نئے اسٹریٹجک نظریے، یعنی “مودی ڈاکٹرائن” کو تقویت دے رہے ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف سخت اور فعال حکمت عملی پر زور دیتا ہے۔ یہ اقدام بھارت کے شہریوں اور عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ بھارت اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
مقامی لوگوں کو شبہ تھا کہ یہ نوجوان علاقے میں ہونے والی گائے چوری کی…
پولیس کے مطابق، 2 اکتوبر کو شام 4 بجے سے 7 بجے کے درمیان شیواجی…
اجلاس کے دوران ریاستی حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت پر بھی تفصیلی…
مئی میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی…
سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ قومی سطح پر کانگریس ہی ایک متبادل ہے، اسی…
ہمنتا بسوا سرما نے اس ملاقات کی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔…