قومی

All India Muslim Personal Law Board President: وقف قانون کو کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے، وزیر اعظم مودی کو ’پنکچر مین‘ یاد ہے لیکن ’میزائل مین‘ نہیں:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے وقف ایکٹ کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ سے عارضی ریلیف ضرور ملا ہے لیکن یہ ریلیف کافی نہیں ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ یہ بالکل غلط قانون ہے، جسے کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ کے تبصروں سے مثبت امید ہے۔اس کے علاوہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بھی بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ بی جے پی کی بدتمیزی دیکھیں، وہ سپریم کورٹ کے ججوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ لوگ خود خانہ جنگی شروع کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسروں کو الزام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وقف املاک کے حوالے سے اس حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ ان کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کو ختم کرنا اور آئین کی حدود کو پامال کرتے ہوئے ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا ہے۔

مولانا رحمانی نے مزید کہا کہ انصاف حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک قانونی اور دوسرا جدوجہد کے ذریعے، جب حکومت مظلوموں کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہو، ان کے مسائل دیکھنے سے قاصر ہو تو پھر احتجاج ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مرشد آباد واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا اور جانوں کے ضیاع سے ہم غمزدہ ہیں، لیکن کیا ایسا پہلی بار ہوا ہے؟ پریاگ راج میں مذہبی عقائد کی وجہ سے کئی لوگوں کی جانیں گئیں، پھر حکومت نے اعداد و شمار بھی چھپائے۔ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، چاہے یہ تہوار کسی بھی مذہب کا ہو۔

مولانا رحمانی نے بی جے پی کو نشانہ بنایا

سیاسی جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ آج کا سیاسی ماحول بہت بگڑ چکا ہے۔ جے ڈی یو، ایل جے پی، ٹی ڈی پی جیسی جماعتوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا ہے۔ انہیں آئندہ انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی ملک میں ترقیاتی کاموں میں ناکام رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے مسائل اٹھاتی ہے جس سے ہندو مسلم ماحول بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو ‘پنکچر مین’ یاد ہے لیکن ‘میزائل مین’ نہیں، روزگار فراہم کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومت کی سوچ تنگ ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کی یہ حالت ہے۔مولانا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وقف سے متعلق معاملات میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت میں پیدا ہوئے اور یہیں مریں گے، ہمارا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے اپنی تقدیر بھارت کی سرزمین سے جوڑی ہے، بھارتی مسلمان اپنے ملک سے باہر نہیں دیکھتے اور ہم یہیں رہ کر اپنے مسائل حل کریں گے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

JDU Expels Anant Singh Neelam Devi For 6 Years: بہار میں جے ڈی یو کی بڑی کارروائی، اننت سنگھ اور نیلم دیوی 6 سال کے لیے پارٹی سے خارج

جن سوراج کے امیدوار کی حمایت کرنا پڑا مہنگا، قانون ساز کونسل انتخابات میں کراس…

21 minutes ago

Dewas Spurious Liquor Tragedy: مدھیہ پردیش کے دیواس میں مشتبہ زہریلی شراب سے 13 اموات، چار دوستوں کی ایک ساتھ موت سے مچی سنسنی

صرف 20 دن کے اندر چاندانا اور بنجانا گاؤں میں 13 افراد کی مشتبہ حالات…

2 hours ago

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…

3 hours ago