نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ملی تنظیموں کا وفاق سمجھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ ملک کی ملی تنظیموں کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ حالانکہ اس تنظیم کو ہمیشہ انتشارکا سامنا رہا ہے۔ کبھی الگ گروپ بنانے اورکبھی دوحصوں میں منقسم کرکے قوم کومشکل میں ڈالنے کا عمل چلتا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ایک بارپھرانتشارکا سامنا ہے۔ اس بارمشاورت کے سابق صدرڈاکٹرظفرالاسلام خان اور موجودہ صدرایڈوکیٹ فیروزاحمد کے درمیان تنازعہ نے مشاورت کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اور دونوں اپنے اپنے گروپ کو ”اصل“ قراردے رہے ہیں۔ دونوں کی لڑائی کا قوم کو بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مشاورت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ تمام ملی تنظیموں کی وفاق ہے تو پھر جب اس کے ممبران میں اتحاد نہیں بن پاتا تو پھر وہ دیگرملی تنظیموں کو متحد کیسے کرپائیں گے۔ موجودہ صدر فیروز احمد نے بھارت ایکسپریس اردوسے خصوصی بات چیت میں ڈاکٹر ظفرالاسلام پر متعدد الزامات عائد کئے۔ بات چیت کا ویڈیو آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ایڈوکیٹ فیروز احمد نے کہا کہ مشاورت کو تقسیم کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے غیراسلامی عمل کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرظفرالاسلام خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ اگراسلامی اسکالرہیں تو پھرغیر اسلامی کام کیسے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے انہوں نے قوم کو منتشرکردیا ہے جبکہ مشاورت کا اصلی دفتر تو یہی ہے، جہاں ہم آج بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس دستاویز بھی موجود ہیں، لیکن ڈاکٹرظفرالاسلام خان خود کو تاحیات صدر بنائے رکھنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مشاورت میں خرد برد کیا تو انہیں اراکین نے بے دخل کردیا اور باہر کا راستہ دکھا دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں آمدنی کی عدم مساوات میں بھی گزشتہ 5 برسوں کے…
بہار کی سیاست اور جے ڈی یو کے اندرونی اختلافات میں تیزی آگئی ہے۔ اننت…
یومِ تاسیس کے موقع پر ایک طرف جامعہ انتظامیہ نے تقریب منعقد کی، تو دوسری…
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات میں ایمان مزاری اور ہادی علی…
دہلی کے تاجروں کی تنظیم نے کانگریس کی یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں…
آسام اور بنگال کے حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سیلابی پانی کے…