دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دہلی میں یہ دھماکہ نومبر 2025 میں ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ نومبر 2025 میں دہلی کے لال قلعہ کے پاس ہوئے حملے کے پیچھے القاعدہ ان انڈین سب کانٹینینٹ یعنی اے کیو آئی ایس کا ہاتھ تھا۔ یہ پہلی بار ہے جب اقوام متحدہ کے دستاویز میں اس حملے کو سیدھے طور پر اس تنظیم سے جوڑا گیا ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں این آئی اے لال قلعہ بم دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ جانکاری 38ویں رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جو 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 کے درمیان کی سرگرمیوں پر منحصر ہے اور اگست 2026 میں سلامتی کونسل کو سونپی گئی۔
چھوٹے چھوٹے گروپ میں سرگرم ہوا اے کیو آئی ایس
رپورٹ کے مطابق اے کیو آئی ایس پہلے ایک کمزور اور بکھری ہوئی تنظیم تھی، لیکن اب یہ ایک منظم علاقائی طاقت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ یہ تنظیم اب بڑے گروپ میں نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اور بکھری ہوئی ٹکڑیوں میں کام کررہی ہے، تاکہ سکیورٹی ایجنسیوں کی پکڑ میں آسانی سے نہ آئے۔ اس نے اپنا الگ لاجسٹک اور فنڈنگ نیٹ ورک بھی قائم کر لیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اے کیو آئی ایس اب بنگلہ دیش میں بھی اپنے ٹھکانے بنانے کی کوشش کر سکتا ہے جس سے جنوبی ایشیا میں اس کا دائرہ اور بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان۔ افغانستان سرحد پر کشیدگی بڑھی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار سے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ طالبان پر الزام ہے کہ وہ پاکستان مخالف تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں اے کیو آئی ایس کو پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے علاقے میں اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کے حملوں سے بھی جڑا گیا ہے، جس میں بنوں میں ایک سیکورٹی چوکی کے قریب خودکش بم دھماکہ بھی شامل ہے۔
دہشت گردوں کے ہاتھ اب اے آئی بھی
رپورٹ میں ایک اور حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بم بنانے اور ٹارگٹ کے تعین کرنے کی جانکاری کے لیے چیٹ جی پی ٹی ٹولز کا سہارا لے رہی ہیں۔ وہیں آئی ایس آئی ایل۔کے اپنے تشہری مواد کا الگ الگ زبانوں میں تیزی سے ترجمہ کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایل کی انگریزی میگزین ’انویڈ‘ میں اس سال بوٹولینم ٹاکسن اور سائینائیڈ جیسے خطرناک کیمیکل بنانے کے بارے میں معلومات شائع کیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کی حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں میں دلچسپی برقرار ہے۔ رپورٹ کی مدت کے دوران اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی پابندیوں کی فہرست میں تین نئے نام شامل کیے گئے، جب کہ سات کو ہٹا دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ 27 فروری 2026 کو النصرہ فرنٹ جسے حیات تحریر الشام بھی کہا جاتا ہے، کو فہرست سے مکمل طور پر نکال دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…