قومی

Akhilesh Yadav’s Attack on CM Yogi: اکھلیش  یادو کا طنزیہ حملہ، کہا-  وزیر اعلیٰ غیر قانونی مکان کا نقشہ پاس کرانے جا رہے ہیں یا بلڈوزر چلانے؟

اکھلیش  یادو نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر وزیر اعلیٰ کے ایک مجوزہ دورے سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے لکھا، ’’کیا گرین بیلٹ میں بنے کسی شخص کے غیر قانونی گھر کا نقشہ دیکھے بغیر ہی وزیر اعلیٰ جی کا وہاں جانے کا پروگرام بنا ہے، یا وہ نقشہ پاس کرانے جا رہے ہیں؟ بلڈوزر ساتھ ہے یا…؟‘‘

اکھلیش  یادو کے  اس تبصرے کے کیا ہیں معنیٰ؟

اکھلیش  یادو کا یہ تبصرہ حکومت کی بلڈوزر کارروائیوں اور مبینہ دوہرے معیار پر طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت قانون کے نفاذ میں یکساں رویہ اختیار نہیں کر رہی، جبکہ حکمراں جماعت مسلسل غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کو قانون کی حکمرانی قرار دیتی رہی ہے۔اکھلیش  یادو نے اپنی پوسٹ کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر کسی بااثر شخصیت کی عمارت گرین بیلٹ میں تعمیر ہوئی ہے تو کیا اس کے خلاف بھی وہی کارروائی ہوگی، جو عام لوگوں یا اپوزیشن سے وابستہ افراد کے خلاف کی جاتی ہے، یا پھر اس معاملے میں نرمی برتی جائے گی۔

اکھلیش  یادو کا بیان اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رام پور میں سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق معاملہ بھی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

حال ہی میں متعلقہ حکام نے یونیورسٹی کی بعض عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی عدالتی اور قانونی عمل کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ سماجوادی پارٹی اسے سیاسی انتقام اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف قانونی تنازعات کا حصہ رہا ہے۔ زمین کے استعمال، تعمیراتی ضابطوں اور دیگر معاملات کو لے کر متعدد تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں جاری رہی ہیں، جن کے بعد اب بعض عمارتوں کو گرانے کی ہدایات سامنے آئی ہیں۔

سی ایم یوگی کی بلڈوزر سیاست پر سخت حملہ

اکھلیش  یادو کی تازہ پوسٹ نے ایک بار پھر اتر پردیش میں بلڈوزر سیاست، غیر قانونی تعمیرات اور قانون کے یکساں نفاذ پر سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ ریاستی حکومت اپوزیشن کے ان الزامات کا کیا جواب دیتی ہے اور آیا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی رنگ اختیار کرتا ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

RBI E Rupee Alternative To UPI: نہ نقد رقم کا جھنجھٹ، نہ ایم ڈی آر کا خوف، کیا ہے آر بی آئی کا متبادل یو پی آئی؟

ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…

51 minutes ago

UP Politics 2027: عمران مسعود کی تاج پوشی: مسلم آؤٹ ریچ یا اکھلیش یادو کو براہِ راست پیغام؟

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…

1 hour ago

LEARN FROM THE WORLD BUT DESIGN FOR INDIA: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے ڈیزائن کریں“

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…

4 hours ago