سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو۔ (فائل فوٹو)
اکھلیش یادو نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر وزیر اعلیٰ کے ایک مجوزہ دورے سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے لکھا، ’’کیا گرین بیلٹ میں بنے کسی شخص کے غیر قانونی گھر کا نقشہ دیکھے بغیر ہی وزیر اعلیٰ جی کا وہاں جانے کا پروگرام بنا ہے، یا وہ نقشہ پاس کرانے جا رہے ہیں؟ بلڈوزر ساتھ ہے یا…؟‘‘
क्या ग्रीन बेल्ट में बने किसी के अवैधानिक घर का नक़्शा देखे बिना ही मुख्यमंत्री जी का उस घर जाने का कार्यक्रम बना या नक़्शा पास कराने गये हैं। बुलडोज़र साथ है या… pic.twitter.com/SSdASA4bCO
— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) July 26, 2026
اکھلیش یادو کے اس تبصرے کے کیا ہیں معنیٰ؟
اکھلیش یادو کا یہ تبصرہ حکومت کی بلڈوزر کارروائیوں اور مبینہ دوہرے معیار پر طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت قانون کے نفاذ میں یکساں رویہ اختیار نہیں کر رہی، جبکہ حکمراں جماعت مسلسل غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کو قانون کی حکمرانی قرار دیتی رہی ہے۔اکھلیش یادو نے اپنی پوسٹ کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر کسی بااثر شخصیت کی عمارت گرین بیلٹ میں تعمیر ہوئی ہے تو کیا اس کے خلاف بھی وہی کارروائی ہوگی، جو عام لوگوں یا اپوزیشن سے وابستہ افراد کے خلاف کی جاتی ہے، یا پھر اس معاملے میں نرمی برتی جائے گی۔
اکھلیش یادو کا بیان اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رام پور میں سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق معاملہ بھی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔
حال ہی میں متعلقہ حکام نے یونیورسٹی کی بعض عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی عدالتی اور قانونی عمل کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ سماجوادی پارٹی اسے سیاسی انتقام اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف قانونی تنازعات کا حصہ رہا ہے۔ زمین کے استعمال، تعمیراتی ضابطوں اور دیگر معاملات کو لے کر متعدد تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں جاری رہی ہیں، جن کے بعد اب بعض عمارتوں کو گرانے کی ہدایات سامنے آئی ہیں۔
سی ایم یوگی کی بلڈوزر سیاست پر سخت حملہ
اکھلیش یادو کی تازہ پوسٹ نے ایک بار پھر اتر پردیش میں بلڈوزر سیاست، غیر قانونی تعمیرات اور قانون کے یکساں نفاذ پر سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ ریاستی حکومت اپوزیشن کے ان الزامات کا کیا جواب دیتی ہے اور آیا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی رنگ اختیار کرتا ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے آسام، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر…
ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…
اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…
مرکزی وزیر داخلہ نے یوم پیدائش پر فون کرکے دی مبارک باد دی، دونوں لیڈروں…
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے وزیر داخلہ امت شاہ کے…
دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…