لکھنؤ – سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پیر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا کہ آئین (130ویں ترمیم) بل کے تحت اگر وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزرا کسی سنگین جرم میں 30 دن سے زیادہ جیل میں رہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ اکھلیش یادو نے کہا: ’’دنیا بھر میں ماضی میں آمریتیں ایسے قوانین لاتی رہیں تاکہ اقتدار ہاتھ سے نہ جائے، لیکن وہ سب حکومتیں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں۔ اٹلی، جرمنی اور روس میں بھی ایسا ہوا۔‘‘
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مقدمے ختم کرالیے
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خلاف مقدمات واپس لے لیے۔ اکھلیش یادو کہا: ’’جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہ خود اس میں گرتے ہیں۔ جنہوں نے ای ڈی بنائی، وہ بھی جیل گئے۔ جب یوپی کے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمات واپس کیے گئے، اس وقت ایمانداری کہاں چلی گئی تھی؟‘‘
امت شاہ کے موقف کا دفاع
امت شاہ نے اس بل کے خلاف اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کسی ایسے شخص کے بغیر بھی چل سکتا ہے جو جیل میں ہو۔ انہوں نے سوال کیا: ’’کیا کوئی وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا لیڈر جیل سے حکومت چلا سکتا ہے؟ اگر رہنما جیل میں ہو تو پارٹی کے دیگر اراکین حکومت چلا سکتے ہیں اور رہنما ضمانت پرآکر دوبارہ حلف اٹھا سکتا ہے۔‘‘
پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی
پارلیمنٹ میں بل کے خلاف شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی، اپوزیشن نے اسے ’’غیر آئینی‘‘ اور ’’مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا ذریعہ‘‘ قرار دیا۔
مشترکہ کمیٹی کی تشکیل
لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی، اسپیکر اور چیئرمین کی جانب سے بل کا جائزہ لے گی تاکہ ترمیم کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…
دوارکا میں 8,941 کروڑ روپے کے یمنا پروجیکٹس کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ…
اسرائیلی وزیر اعظم نے کیپٹن اسمت مچھار کو ’بھارت کا بہادر پائلٹ‘ قرار دیا۔ دونوں…