نئی دہلی: ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کی جانب سے بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارے میں فیول کنٹرول سوئچ میں ممکنہ خرابی کی اطلاع کے بعد ایئرلائن نے فوری طور پر مذکورہ طیارے کو پرواز سے روک دیا اور اس معاملے کی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کو باضابطہ اطلاع دے دی ہے۔ ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق، پائلٹ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ ملتے ہی حفاظتی نقطۂ نظر سے فوری فیصلہ لیتے ہوئے طیارے کو گراؤنڈ کر دیا گیا اور اصل ساز کمپنی (OEM) کے ساتھ رابطہ قائم کر کے تکنیکی جانچ کو ترجیحی بنیاد پر شروع کر دیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا کا موقف
ایئر انڈیا کے ترجمان نے کہا: ’’ہمیں علم ہے کہ ہمارے ایک پائلٹ نے بوئنگ 787-8 طیارے کے فیول کنٹرول سوئچ میں ممکنہ خرابی کی نشاندہی کی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ہم نے طیارے کو گراؤنڈ کر دیا اور اصل ساز کمپنی کی مدد سے فوری جانچ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس معاملے سے ڈی جی سی اے کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ مسافروں اور عملے کی حفاظت ایئر انڈیا کی اولین ترجیح ہے۔‘‘ ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈی جی سی اے کی ہدایت کے بعد ایئر انڈیا نے اپنے بیڑے میں شامل تمام بوئنگ 787 طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچ کی جانچ کرائی تھی، جس میں کوئی خرابی سامنے نہیں آئی تھی۔
احمد آباد حادثہ اور خدشات
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 12 جون کو احمد آباد سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، حادثے سے چند سیکنڈ پہلے ایک پائلٹ نے دوسرے سے سوال کیا تھا کہ اس نے انجن کا فیول کیوں بند کیا؟ جس پر دوسرے پائلٹ نے جواب دیا کہ ’’میں نے ایسا نہیں کیا۔‘‘ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیک آف کے فوراً بعد دونوں انجن ایک سیکنڈ کے وقفے سے بند ہو گئے، جس کے نتیجے میں طیارہ تیزی سے بلندی کھونے لگا اور ہوائی اڈے کے قریب زمین سے ٹکرا گیا۔
ڈی جی سی اے کا ردعمل اور حفاظتی اقدامات
ڈی جی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل فیض احمد قدوائی نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک سمینار کے دوران فضائی سلامتی کے سخت اور پیشگی نگرانی کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بھارتیہ وائیویان ادھینیم 2024، اسٹیٹ سیفٹی پروگرام اور نیشنل ایوی ایشن سیفٹی پلان (2024-2028) جیسے اقدامات کے ذریعے فضائی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
فضائی سلامتی پر بڑھتی تشویش
ماہرین کے مطابق، حالیہ واقعہ فضائی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایک مہلک حادثے کی وجوہات پر تحقیقات جاری ہیں۔ ایئر انڈیا اور ڈی جی سی اے کی فوری کارروائی کو احتیاطی اور ذمہ دارانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مکمل تکنیکی جانچ کے بعد ہی اصل صورت حال واضح ہو سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…