قومی

Air India Goes Digital: ایئر انڈیا نے بوئنگ وائیڈ باڈی طیاروں کے انتظام کے لیے اپنایا ڈیجیٹل نظام، ڈی جی سی اے نے الیکٹرانک ٹیکنیکل لاگ بُک کو دی منظوری

نئی دہلی: ایئر انڈیا نے اپنی انجینئرنگ اور طیاروں کی دیکھ بھال کے نظام کو مزید جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بوئنگ 787 وائیڈ باڈی طیاروں کے لیے الیکٹرانک ٹیکنیکل لاگ بُک (ETL) کو بنیادی تکنیکی دستاویز کے طور پر نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی منظوری حاصل ہوگئی ہے، جبکہ بوئنگ 777 طیاروں میں بھی اس نظام کے مرحلہ وار نفاذ کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ڈیجیٹل لاگ بُک سے کاغذی نظام کا خاتمہ

ایئر انڈیا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الیکٹرانک ٹیکنیکل لاگ بُک روایتی کاغذی مینٹیننس ریکارڈ کی جگہ ایک محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جس سے طیاروں کی دیکھ بھال، انجینئرنگ سرگرمیوں اور تکنیکی معلومات کے انتظام میں تیزی، درستگی اور شفافیت آئے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منظوری کے بعد ایئر انڈیا ان اولین فضائی کمپنیوں میں شامل ہوگئی ہے، جنہوں نے اپنے پورے بوئنگ 787 وائیڈ باڈی بیڑے میں الیکٹرانک ٹیکنیکل لاگ بُک کا مکمل نفاذ کیا ہے۔ نئے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مینٹیننس انجینئروں اور آپریشنل ٹیموں کے درمیان معلومات کا تبادلہ حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں ممکن ہوگا۔ اس سے تکنیکی خرابیوں کی فوری نشاندہی، ان کے بروقت ازالے، بہتر باہمی رابطے اور طیاروں کی بروقت روانگی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ڈیٹا کی حفاظت اور پیشگی مینٹیننس میں سہولت

ایئر انڈیا کے مطابق یہ نظام ڈیٹا کی سالمیت، ریکارڈ کی ٹریس ایبلٹی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تجزیاتی سہولت (اینالیٹکس) کی بدولت ممکنہ تکنیکی خرابیوں کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکے گا، جس سے انجینئرنگ فیصلے زیادہ مؤثر اور بروقت ہوں گے۔ کمپنی نے کہا کہ مکمل طور پر کاغذ سے پاک یہ نظام کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی لائے گا، جس سے ایئر انڈیا کے ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری (سَسٹینیبلٹی) کے اہداف کو تقویت ملے گی۔

جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس ایئرلائن کی جانب اہم قدم

ایئر انڈیا کے سینئر نائب صدر (انجینئرنگ و مینٹیننس) جیرمی یو جن کِٹ نے کہا کہ بوئنگ وائیڈ باڈی بیڑے میں الیکٹرانک ٹیکنیکل لاگ بُک کا نفاذ انجینئرنگ، فلائٹ آپریشنز، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ٹیموں، طیارہ ساز اداروں اور ریگولیٹر کے درمیان قریبی تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذی نظام کی جگہ حقیقی وقت پر مبنی ڈیجیٹل معلومات کے استعمال سے آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی، مینٹیننس کا نظم مضبوط ہوگا، ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد مزید مؤثر ہوگا اور انجینئرنگ و آپریشنل ٹیمیں زیادہ تیزی سے فیصلے کر سکیں گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایئر انڈیا کی جانب سے انجینئرنگ اور مینٹیننس کے شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے اور عالمی معیار کی حفاظت و ضابطہ جاتی پاسداری برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

41 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

1 hour ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago