نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ تال کٹورہ انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ تحفظ اوقاف کانفرنس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدارتی خطاب میں کہا کہ وقف قانون کے تعلق سے لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں اور گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے لوگ کہتے ہیں کہ وقف قانون کا مذہب سے تعلق نہیں ہے، تو پھر مذہبی قیدوبند کیوں لگائی ہے؟ کہا جاتا ہے کہ وقف قانون کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہے، لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ کوئی بھی نکات یا پہلو بتا دیجیئے جس سے غریبوں کو فائدہ ہوسکتا ہو۔یہ قانون کسی بھی طرح سے غریبوں کے حق میں نہیں ہے۔ہمیں احتجاج کرنا ہے، یہ ہمارا جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج پرامن ہونا چاہئے۔ہماری صفوں میں لوگ گھس کر امن وامان کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں اس سے محتاط رہنا ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ہمیں اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ہمارے درمیان مسلکی اور عقیدے کی بنیاد پر اختلافات ہوسکتے ہیں ،لیکن اس کو ہمیں اپنے درسگاہوں تک محدود رکھنا ہوگا اور اس لڑائی کے لئے سبھی کو اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے غیر مسلم بھائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہمارے ساتھ ہیں، ہماری مضبوط لڑائی کو جیت ملے گی۔آج ہمارے علمائے کرام اس کانفرنس میں شیروانی پہن کر آئے ہیں ،کل اگر ضرورت پڑی تو وہ کفن بھی پہن کر آئیں گے۔ آج ان کے ہاتھوں میں گھڑی ہے ،کل ضرورت پڑی تو ہتکڑی بھی پہننے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
قانون مسلمانوں کے خلاف: پرسنل لاء بورڈ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وقف قانون بناکر حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو اجاگر کر دیا ہے، لیکن ہم اپنی پرامن لڑائی کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے نائب صدر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد، خواجہ اجمیری درگاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا سرور چشتی، محمد سلیمان، صدر انڈین یونین مسلم لیگ، عیسائی رہنما اے سی مائیکل، محمد شفیع، نائب صدر ایس ڈی پی آئی، روی شنکر ترپاٹھی، سردار دیال سنگھ وغیرہ موجود تھے۔
مودی حکومت نے وقف قانون کو دی منظو
قابل ذکر ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔جے پی سی کا چیئرمین یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کو بنایا گیا تھا۔مختلف ریاستوں میں کئی میٹنگوں کے بعد 14 ترامیم کے ساتھ اس بل کو منظوری دی تھی۔جس کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس بل کو منظور کیا گیا۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی مہر لگا دی، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔ اس کے بعد مختلف تنظیموں اور کئی اراکین پارلیمنٹ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر سماعت جاری ہے۔حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اس قانون کے کچھ پہلوؤں پر سوال اٹھایا اور چند نکات کے نفاذ پر روک لگا دی ہے۔ عدالت میں اب 5 مئی 2025 کو اس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
کانفرنس کی سب سے بڑی کشش پرواسی بھارتیہ سمان ایوارڈ ہوگا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو…
اویسی نے کہا ’’اگر فرضی فارم 7 داخل کیے جا رہے ہیں تو ہم الیکشن…
سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری کی تاریخ 1891 سے جڑی ہوئی ہے۔ اسے ابتدا میں ’امپیریل سیکریٹریٹ…
ہندوستان نے ایشین گیمز 2026 میں مجموعی طور پر 85 تمغے جیتے، جن میں 21…
بی جے پی ترجمان نے کانگریس کی قیادت پر کیپٹن اسمت مچھار کی بہادری پر…
کائنات نے گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی پاکستان کے لیے اہم کردار ادا…