قومی

یوپی اسمبلی الیکشن سے پہلے اسدالدین اویسی کو بڑا جھٹکا، ڈاکٹر عبدالمنان کے بعد عاصم وقار نے کیا اے آئی ایم آئی ایم چھوڑنے کا فیصلہ، اویسی کی راہ ہوگی مشکل!

نئی دہلی: اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان اورسینئرلیڈرعاصم وقارنے یوپی الیکشن سے پہلے بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، عاصم وقارنے اسدالدین اویسی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ کل یعنی بدھ (2 ستمبر، 2026) کوکانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ دراصل، اسدالدین اویسی لمبے وقت سے اترپردیش کی سیاست میں پیرجمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یوپی الیکشن سے کچھ ماہ پہلے ہی عاصم وقارکا یہ قدم ان کی سیاسی زمین کمزورکرسکتا ہے۔ یہ اس لئے کیونکہ عاصم وقار10 سال سے اے آئی ایم آئی ایم میں سرگرم رہے ہیں۔ قومی ترجمان ہونے کے ناطے عاصم وقار یوپی کی سیاست کا بڑا چہرہ بن گئے ہیں۔ حال ہی میں اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان ڈاکٹر عبدالمنان نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیارکرلی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سے ناراض تھے عاصم وقار

بتایا جا رہا ہے کہ عاصم وقارگزشتہ کچھ وقت سے اے آئی ایم آئی ایم سے ناراض چل رہے تھے۔ یوپی یونٹ کے کچھ فیصلوں نے ان کی ناراضگی میں اضافہ کردیا تھا۔ حالانکہ عاصم وقار ابھی کچھ بھی کہنے سے بچ رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی ناراضگی کی اصل وجہ بتاپانا مشکل ہے۔ حالانکہ حال ہی میں ان کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے بہت کچھ سامنے آگیا تھا۔ حال ہی میں پارٹی کے قومی ترجمانوں کی تقرری کی گئی تھی، جس کا خط ریاستی صدرکے دستخط سے جاری کیا گیا تھا، اس پرعاصم وقارنے بڑا سوال اٹھایا تھا۔

پہلے سماجوادی پارٹی میں تھے عاصم وقار

واضح رہے عاصم وقارنے اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم چھوڑنے سے پہلے سماجوادی پارٹی میں تھے اور20 سالوں تک سماجوادی پارٹی میں رہتے ہوئے سیاست کی تھی۔ اب اپنی پارٹی سے ناراض ہوکروہ واپس سماجوادی پارٹی میں نہیں بلکہ کانگریس میں جانا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آل انڈیا مائنارٹی سیل کے صدراورراجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے عاصم وقارکواپنی طرف لانے کے لئے کافی محنت کی ہے۔

سال 2027 کے آغازمیں یوپی اسمبلی الیکشن

اترپردیش اسمبلی الیکشن 2027 آئندہ سال جنوری یا فروری میں مجوزہ ہے۔ سال 2022 کے اسمبلی الیکشن سات مرحلوں میں پورے ہوئے تھے اوراس دوران اے آئی ایم آئی ایم کوایک بھی سیٹ نہیں مل سکی تھی۔ اے آئی ایم آئی ایم شروعات میں اوم پرکاش راج بھرکے ساتھ اتحاد کا حصہ تھی اورسیٹوں کی تقسیم پربھی بات ہوگئی تھی۔ حالانکہ بعد میں ایس بی ایس پی نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ لے لیا۔ تب اے آئی ایم آئی ایم نے اکیلے ہی 95 سیٹوں پریوپی الیکشن لڑا تھا۔ فی الحال، سال 2027 کے لئے یوپی کی مسلم سیٹوں پراسدالدین اویسی کی خاص نظرہے۔

ڈاکٹرعبدالمنان سماجوادی پارٹی میں ہوچکے ہیں شامل

حال ہی میں اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ قومی ترجمان اوربلرام پور ضلع کی اترولہ اسمبلی سیٹ سے امیدوار رہے ڈاکٹرعبدالمنان ابھی گزشتہ ہفتے ہی سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اکھلیش یادو کی موجودگی میں سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیارکی۔ اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہونے سے ڈاکٹرعبدالمنان پیس پارٹی کے ریاستی صدر تھے۔ اویسی نے انہیں 2022 کے اسمبلی الیکشن میں اترولہ سے امیدواربنایا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

21 minutes ago

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

4 hours ago