قومی

Encounter Politics: ’بس 11 ایم ایل اے دے دو، پھر ہوگا انکاؤنٹر…‘، ’عید ملن‘ پروگرام میں یہ کیا کہہ گئے اے آئی ایم آئی ایم لیڈر شوکت علی؟

اتر پردیش میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے ریاستی صدر حاجی شوکت  علی نے ایک ’عید ملن‘ پروگرام کے دوران نہایت متنازع بیان دیا ہے، جس کے بعد صوبے میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ دراصل اے آئی ایم آئی ایم لیڈر شوکت  علی میرٹھ میں ایک پروگرام میں شریک ہوئے تھے، جہاں انہوں نے کہا کہ ہمیں 111 نہیں صرف 11 ایم ایل اے دے دو تو ہم اپنی طاقت دکھا دیں گے اور کسی مسلمان کا انکاؤنٹر کرنے والے کا بھی انکاؤنٹر ہوگا۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست میں سیاسی قطبیت اور قانون و انتظام کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

’انکاؤنٹر کرنے والوں کا بھی انکاؤنٹر ہوگا‘

’عید ملن‘ پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران اے آئی ایم آئی ایم لیڈر شوکت  علی نے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کر کے جا رہا ہوں کہ اتر پردیش میں اگر کسی مسلمان کا انکاؤنٹر ہوگا تو انکاؤنٹر کرنے والوں کا بھی انکاؤنٹر ہوگا۔ اس دوران انہوں نے سماجوادی پارٹی پر بھی نشانہ سادھا اور کہا کہ جنہیں آپ نے 111 ایم ایل اے جتوائے، وہی اب کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت نہیں ہے تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ریاست میں مدارس پر تالے لگوائے گئے، صرف الزامات کی بنیاد پر لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے گئے اور بے گناہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں مسلمانوں کا بھی بڑا کردار رہا ہے، لیکن آج ان کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافی ہو رہی ہے۔

میرٹھ کے ایس ایس پی کے بیان پر ردعمل

شوکت  علی نے میرٹھ کے پولیس کپتان (ایس ایس پی) کے اس حالیہ حکم کا بھی ذکر کیا، جس میں سڑک پر نماز پڑھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور لائسنس منسوخ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ دوہرا رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ رام نومی کے جلوسوں کے دوران بھی اسی طرح کی سختی دکھائی جائے اور مساجد کے سامنے ’ناگن ڈانس‘ جیسے اشتعال انگیز عمل کرنے والوں کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے۔

ہر مسجد میں ایک ڈنڈا رکھنے کی اپیل

مذہبی جذبات کو ابھارتے ہوئے شوکت  علی نے حامیوں سے اپیل کی کہ اگر وہ اپنی مساجد اور مدارس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ’ایک ڈنڈا، ایک جھنڈا اور ایک لیڈر‘ کے فارمولے پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسجد میں ایک ڈنڈا ہونا چاہیے تاکہ خود دفاع کیا جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کا بڑا کردار رہا ہے، لیکن آج جان بوجھ کر بے گناہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور صرف الزامات کی بنیاد پر گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Karwan Geeton Ka Neeraj Event: کارواں گیتوں کا… نیرج میں سجے گی نغموں کی محفل، سی ایم ڈی اپیندر رائے کا اہم کردار؛ کئی معروف شخصیات ہوں گی شریک

’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…

14 minutes ago

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

10 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

11 hours ago